حکومت نے ایک لاکھ سرکاری ملازمین فارغ کرنے کا پلان تیار کرلیا، طریقہ کار کیا ہوگا؟ جان کر ہوش اڑجائیں

تمام سرکاری ملازمین کے لیے قبل از وقت ریٹائرمنٹ پالیسی کا اجراء کردیا گیا۔  سول سروس (لازمی ریٹائرمنٹ سروس) رول 2020 کا نفاذ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری اداروں میں ملازمین کو تین کٹیگریز کے تحت قبل از وقت ریٹائرمنٹ ملازمتوں سے فارغ کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں سرکاری اداروں میں پہلے مرحلے میں اضافی، غیر ضروری ، مبینہ کرپشن، اختیارات سے تجاوز سمیت اچھی کارکردگی نہ دکھانے والے ملازمین اور افسران کو ملازمتوں سے جبری طور پر ریٹائرڈ کرنے کے لیے پلان تیار کیا گیا ہے اور حکومت نے اس پلان کو حتمی شکل دے کر رواں سال سے باقاعدہ عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 وفاقی حکومت کے سرکاری سروس رولز 2020 کے تحت سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر ملازمین اور

افسران کو جبری طور پر ریٹائرڈ کرکے گھروں کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں  لازمی /جبری ریٹائرمنٹ کے لئے گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک کے ملازمین اور افسران کے لیے دو الگ الگ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ جبکہ گریڈ ایک سے گریڈ 17 تک  اور گریڈ 17 سے گریڈ 20اور پھر گریڈ 20 سے گریڈ 22 تک کے ملازمین کو 58 سال کی عمر میں نوکریوں سے فارغ کیا جانے کا پلان تیار کیا گیا ہے۔

  اس میں وفاقی اداروں محکمہ ریلوے، سوئی گیس، واپڈا، پی آئی اے سمیت متعدد محکموں کی فہرست تیار کرنے کےلئے کمیٹی نمر وں کو دو ماہ کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔جس میں ملازمین اور  افسران پر ناقص کارکردگی۔مبینہ کرپشن۔اختیارات سے تجاوز سمیت نااہلی کے الزامات عائد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس طرح بڑے پیمانے پر ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جارہا ہے۔

 آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر ایسا پلان نافذ کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں ظاہر کیا جائے گا کہ حکومت کے اس پلان سے  اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور وہاں ملازمین اور افسران کی کارکردگی کی بھی مانیٹرنگ کے نظام میں  آسانی ہو گی اور مبینہ کرپشن اختیارات سے تجاوز سمیت نااہلی کی شکایات ختم ہو کر رہ جائیں گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس پلان سے پہلے مرحلے میں وفاقی اداروں  سے ایک لاکھ  ملازمین اور افسران کی چھٹی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں پہلے مرحلے میں 58سال کی عمر والے ملازمین اور افسران جبکہ دوسرے مرحلے میں کٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جانے کا پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کے اس پلان سے سرکاری اداروں کے ملازمین اور افسران میں بڑے پیمانے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔اور سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنظیم ایپکا نے ملک بھر کے ملازمین کی تنظیموں کے اور ایسوسی ایشنزکو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے کال دینے کے لیے پلان تشکیل دے دیا ہے۔


”میں الو کا پٹھا ہوں“تحریک انصاف کی حمایت پر حسن نثار کی خود کو گالیاں

معروف تجزیہ نگار حسن نثار نے تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے پر اپنے آپ کو گالیاں

دے دیں۔نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ میرے تو ماتھے پر لکھا ہے کہ میں الو کا پٹھا ہوں۔ میرے جیسا تو احمق اور بیوقوف کوئی نہیں۔۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں مایوسی پھیلاتا ہوں، میرے جیسا تو کوءاحمق امید پرست تھا ہی کوئی نہیں۔ جس نے تیسری قوت کے خواب دیکھے، مجھے کہا گیا کہ یہ خوابوں کی آدمی ہے۔حسن نثار کا کہنا تھا کہ میں بے نظیر اور نوازشریف کے بارے میں کہتا تھا کہ ایک چھرا ہے، دوسری چھری ہے، ایک کھڈا ہے تو دوسری کھائی ہے۔ ان سے امیدیں تھیں، ہاتھوں سے لگائی گئی گانٹھیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔حسن نثار نے تحریک انصاف سے متعلق کہا کہ یہ پہلی بار اقتدار دیکھ رہے ہیں، اگر یہ دوچار دولتیاں مارتے ہیں تو کوئی بات نہیں ہے۔ مجھے کرکٹ کا کیا پتہ؟ مجھے عمران خان کے بارے میں اتنا پتہ ہے کہ یہ پاپولر آدمی ہے۔

پب جی کھیلتے کھیلتے نوجوان نے خودکشی کرلی

لاہورکے علاقہ ہنجروال میں نوجوان نے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کر لی۔پولیس کے مطابق ہنجروال کے علاقے گلشن عباس فیز2 نواب اسٹریٹ کے 16 سالہ محمد ذکریا نے خود کو کمرے میں بند کر لیا اور پنکھے سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ کمرے میں متوفی کے موبائل فون پر گیم PUBG چل رہی تھی۔پولیس کے مطابق پب جی گیم کھیل کر دنیا میں متعدد افراد خود کشیاں کر چکے ہیں۔ پولیس اور فرانزک ٹیم نے شواہد اکٹھے کرکے تفتیش شروع کر دی۔

افسوسناک خبر



 پیر طریقت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب انتقال کر گئے  ۔  
۔ انا للہ واناالیہ راجعون
 

"کل سے ہم یہ اہم کام کرنے جا رہے ہیں"، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے  اعلان کیا ہے کہ کل سے ہم بین الاقوامی پروازوں کو مرحلہ
وار کھولنے جارہے ہیں۔ 
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیئے گئے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ "کل ہم بین الاقوامی پروازوں کیلئےجزوی طور پرفضائی حدودکھولیں گے۔یہ اہتمام خاص طورپرہمارےان اوورسیز مزدوروں کیلئےکیا جارہاہےجو سب سےزیادہ وباء کی زد میں آئےمگراپنےحوصلےسےقوم کےفخرکاسامان بنے۔ گھرواپسی پر ہم آپکاخیرمقدم کرتےاوریقین دلاتے ہیں کہ ہماری حکومت سےجوکچھ بھی بن پڑا کرے گی۔"۔

Tomorrow we will partially open airspace for intl flights.This is being done specially to help our Overseas workers who have suffered most in this pandemic but have shown great courage & made us proud. We welcome you back home & our govt will facilitate you in every way.

اپنے دوسرے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ "وباء کےہنگام سمندرپار بسنے والی پاکستانی کمیونٹی نےبیرون ملک مقیم اپنےبہن بھائیوں کی مددکیلئےجس بےلوث سخاوت کامظاہرہ کیاوہ لائقِ تحسین ہے۔بہت سی ایسی مثالیں دستیاب ہیں جن سےیہ صاف ظاہرہےکہ ضرورت مندافراد کا ہاتھ تھامنےکےحوالےسے پاکستانی کمیونٹی کیسےمتاثر کن طرزِ عمل کا وسیلہ بنی۔"۔
I appreciate the philanthropic role played by the Overseas Pakistani community in helping their brothers & sisters abroad during Covid19. There are many examples where the Pakistani community has been a source of inspiration, helping those around in need.

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے خوشخبری۔ پنجاب ڈرائیونگ لائسنس
کا حصول آسان کرتے ہوئے 'ڈیجیٹل ڈرائیونگ لائسنس' متعارف کرانے کافیصلہ کر لیا گیاہے۔
پاکستان بھر میں پہلی بارشہریوں کو یہ آسانی فراہم کی جارہی ہے۔

اس نظام کے تحت شہریوں کو لمبی کاغذی کارروائی کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا نہ ہی لمبی لمبی قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔ صرف شناختی کارڈ اور بینک میں بھری گئی فیس کا چالان پیش کرکے ہی ڈرائیونگ لائسنس بنوایاجاسکے گا۔صارفین کو شناختی کارڈ اور بینک چالان کے علاوہ کسی قسم کے دستاویزات جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے طویل ترین قطار میں لگنا پڑتا تھا اور انہیں تصویر بنوانے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کروانے کے لیے بھی کافی انتظار کرنا پڑتا تھا، اس کے علاوہ انہیں دیگر دستاویزات بھی پیش کرنا ہوتی تھیں۔

دنیا بھر میں کورونا متاثرین کے لیے بڑی خوشخبری ،کورونا وائرس سے زندگیا ں بچانے والی پہلی دوائی سامنے آگئی ،برطانوی سائنسدانوں کو اہم کامیابی مل گئی


انتہائی سستی اور با آسانی دستیاب دوائی  ”dexamethasone“کورونا وائرس سے بری  طرح متاثر افراد کی جان بچا سکتی ہے ۔برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے سٹیرائڈسے علاج نے اہم کام کیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوائی کورونا وائرس کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے والے مریضوں کی موت کے خطرے کو ایک تہائی فیصد کم کر دیتی ہے ۔یہ دوائی کورونا وائرس کے بیماری بگڑنے کے باعث آکسیجن لینے والے ہر پانچویں مریض کو ٹھیک کر رہی ہے ۔ریسرچرز کا اندازہ ہے کہ اگر کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے آغاز میں یہ دوائی برطانیہ میں مریضوں کو ٹھیک کرنے کے لیے دی جاتی توپانچ ہزار زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں ۔

اس دوائی کے کم قیمت ہونے کی وجہ سے یہ ان غریب ممالک میں بھی با آسانی دستیاب ہو سکتی ہے جہاں لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہیں ۔”dexamethasone “انجیکشن میں بھی دیا جا سکتا ہے جبکہ روز ایک ٹیبلٹ بھی کھائی جا سکتی ہے ۔یہ سٹرائڈ جسم میں اس مادے کو نکلنے سے روکتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل ہونے جیسی بری علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔یہ سٹرائڈ 1957میں دریافت ہوا تھا جو کہ الرجی سمیت مختلف قسم کی بیماریوں کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے ۔


لندن میں وزیراعظم عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماوں کی جائیدادیں نکل آئیں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے دھماکہ خیز انکشاف کردیا

سپریم کورٹ میں تعینات جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دھماکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا
ہے کہ لندن میں وزیراعظم عمران خان سمیت تحریک انصاف کے متعددرہنماؤں کی جائیدادیں موجود ہیں۔ 
انہوں نے کہا پی ٹی آئی کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف کی بھی لندن میں جائیدادوں کی معلومات ملی ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں جسٹس فائز عیسیٰ  نے کہا کہ انہیں شہزاد اکبر کے اس دعوے کہ برطانیہ میں کسی کی بھی جائیداد سرچ انجن 192.کام کے ذریعے تلاش کی جاسکتی ہے سے ایک اشارہ ملا۔ڈان کے مطابق انہوں نے بتایا کہ سرچ انجن کو کچھ معروف شخصیات کی جائیدادیں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا گیاجس کے تنائج کے مطابق برطانیہ میں عمران خان کی جائیدادیں 6، شہزاد اکبر کی 5 ، سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی ایک، ذوالفقار بخاری کی 7، عثمان ڈار کی 3، جہانگیر ترین کی ایک اور پرویز مشرف کی 2 جائیدادیں ہیں۔

جج کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد معروف عوامی شخصیات ہیں اور انکم ٹیکس، فارن ایکسچینج یا منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ میں غیر قانونی جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔ انکم ٹیکس قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو اپنا ریکارڈ چیک کرنا چاہیئے اور دیکھنا چاہیئے کہ کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر ہے اور ان شخصیات نے کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔

دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کوخدا حافظ، طارق عزیز بھی چل بسے

اکستان کے معروف ٹی وی میزبان اور طارق عزیز شو  اور بزم طارق عزیز جیسے شہرہ آفاق ٹی وی پروگرام سے شہرت پانے والے طارق عزیز اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

 طارق عزیز کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ  انہیں گلے میں تکلیف کے باعث   ہسپتال منتقل کیا گیا تھا مگر وہ جانبر نہیں ہوسکے۔پاکستان کے معروف میزبان اور انتہائی نفیس شخصیت طارق عزیز نے ریڈیو سے کیریئر  شروع کیا جبکہ 1974 میں نیلام گھر شو کا آغاز کیاوہ پی ٹی وی کے پہلے اینکر ہونے کا بھی اعزاز رکھتے تھے۔انہیں ان کے پروگرام نیلام گھر سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔نہوں نے متعدد فلموں میں بھی کام کیا جبکہ فنی خدمات پر انہیں  1992 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

طارق عزیز 1997 سے 1999 تک رکن قومی اسمبلی بھی رہے۔

کیا اس بار حج نہیں ہوگا؟ عرب میڈیا کی پریشان کن رپورٹ سامنے آگئی

سعودی عرب کے حکمران 1932 میں سعودی مملکت کے قیام کے بعد پہلی بار رواں سال حج کو منسوخ کرنے پر غور کررہے ہیں۔ گولف نیوز کے مطابق سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اس لیے حکومت رواں سال حج منسوخ کرنے پر غور کررہی ہے۔انہوں نے کہا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور اس سے متعلق ہر پہلو کا گہرا جائزہ لیاجارہاہے جبکہ
باضابطہ اعلان ایک ہفتے کے اندر کردیاجائے گا۔
حج کااجتماع دنیا کے عظیم ترین اجتماعات میں سے ایک ہے جس مٰیں دنیا بھر سے تقریب بیس لاکھ افراد سعودی عرب پہنچتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مارچ میں جب کورونا وائرس کا پھیلاو بڑھنے لگا تو سعودی عرب نے تمام ممالک کو کہا تھا کہ وہ حج پلان پر ابھی توقف کریں جبکہ عمرہ پر پابندی عائد کردی گئی۔

 رائٹرز کے مطابق چند سعودی حکام کا خیال ہے کہ اس سال حج کو منسوخ کردیا جائے، رائٹرز کے مطابق دو اعلیٰ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ  چند افراد کو حج کی اجازت دینے کی بات چیت بھی چل رہی ہے جس کے تحت عمررسیدہ افراد پر پابندی اور سخت طبی احتیاطی تدابیر اپنائی جاسکیں اور اگر سخت ترین ہدایات جاری کی گئیں تو سعودی عرب کا خیال ہے کہ اس کے ساتھ  کل  گنجائش کے صرف بیس فیصد کو حج کی اجازت دی جائے۔

خیال  رہے موجودہ صورتحال میں مسلمانوں کی بڑی آبادی والا ملک انڈونیشیا  نے  شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے جب کہ ملائشیا نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ بھارت کی حج کمیٹی کا بھی کہنا  ہے کہ رواں سال حج کی ادائیگی کے امکانات بہت کم ہیں۔

کورونا وائرس کہاں سے آیا؟ ناروے نے بھی بہت بڑا دعویٰ کر دیا

ناروے اور برطانوی سائنسدان نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی نہیں بلکہ لیبارٹری میں بنایا گیا ہے۔گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے دنیا میں پھیلنے والے مہلک کورونا وائرس سے 4 لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 71 لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔مہلک وائرس سے نہ صرف دنیا بھر میں معاشی، سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سرگرمیاں رک گئی ہیں بلکہ سیاحت سمیت کئی انڈسٹریز کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے چین پر الزام لگایا گیا ہے کہ مہلک وائرس چین کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے تاہم چین نے ہمیشہ ہی الزام کی تردید کی ہے۔اب ناروے اور برطانیہ کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی نہیں ہے بلکہ اسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ناروے کے برجر سورینسن اور برطانوی پرفیسر اینگس ڈلگلیش نے یہ دعویٰ برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی 6 کے سابق سربراہ سر رچرڈ ڈیئرلو کی معاونت سے ہونی والی ایک تحقیق میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی جھلی ایسے تیز نوک دار پروٹین سے بنی ہے جو مصنوعی طور پر داخل کیے گئے ہیں جب کہ تحقیق میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسانی جسم میں دریافت ہونے کے بعد سے کورونا میں بہت کم تبدیلی دیکھی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پہلے ہی انسانوں کے لیے ڈھالا گیا ہے۔

سورینسن کے مطابق کورونا کی خصوصیات سارس سے بہت زیادہ مختلف ہیں جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ چین ا ور امریکا نے کورونا وائرس پر کئی عرصے تک مشترکہ تحقیق کی ہے جس میں وائرس کے بڑھنے، پھیلنے اور منتقلی کی صلاحیت سے متعلق مطالعہ کیا گیا۔برطانوی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سر ڈیئرلو کا کہنا تھا کہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کو مفلوج کرنے والا وائرس لیب میں بنایا گیا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تجربے کے دوران یہ وائرس ناقص انتظامات کے باعث نکل گیا ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ متعدد اداروں نے یہ تحقیق چین کی ناراضی کے خدشے کے پیش نظر شائع کرنے سے معذرت کی ہے۔


واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں پھیلی وبا کا الزام چین پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کا تعلق ووہان کی لیبارٹری سے ہے۔دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی اور سائنسدان کہتے ہیں کہ کورونا وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہوا اور اس کا تعلق چین کے شہر ووہان کی لیب سے نہیں ہے۔


اسلام آباد میں کرونا خطرناک حد تک پھیل گیا،کون سے 9 مقامات کو سیل کر دیا گیا ؟تفصیلات آگئیں

 وفاقی دارالحکومت میں کرونا خطرناک حد تک پھیل گیا جس کے بعد 9 مقامات کو سیل
کردیا گیا۔ تفصیلات کےمطابق اسلام آباد میں کرونا وائرس خطرناک حد تک پھیل گیا،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے9 مقامات کو سیل کرکے رینجرز،پولیس اورفوج تعینات کرنےکےاحکامات جاری کردئیےگئے۔ذرائع کا کہناہےکہ سعودی پاک ٹاور،پاکستان سپورٹس بورڈ، چٹھا بختاور، نیشنل پولیس فانڈیشن،ای الیون 4 گلی نمبر 16،سیکٹر ہائی10اورہائی10فورگلی نمبر26اور سب سٹریٹ کو سیل کردیا گیا ہے ،اسی طرح سیکٹر جی نائن 4 کی گلی نمبر 111،سیکٹرجی سیون2کی گلی نمبر54،پی ڈبلیو ڈی کالونی بلاک نمبر 6اورسیکٹر جی 4 گلی نمبر 62 کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔دوسری جانب اسلام آباد کچہری کی تمام عدالتیں 30 جون تک بدستور بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، خصوصی عدالتیں بھی 30 جون تک مکمل بند رہیں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی ججز صرف ضمانت،سٹےآرڈراورارجنٹ کیسز سنیں گے،خصوصی عدالتوں میں 30 جون تک صرف اہم مقدمات کی سماعت ہوگی، سول مقدمات کی سماعت بدستور 30 جون تک نہیں ہوگی۔واضح رہے پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ریکارڈ 4,131 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 80,463 ہو گئی ہے جبکہ کورونا سے مزید 67 افراد زندگی کی بازی ہارگئے جس کے بعد ملک بھر میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 1,688 تک جا پہنچی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

ہائیکورٹ نے شہبازشریف کو  منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 17 جون تک عبوری ضمانت فراہم کر دی ہے اور پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم

جاری کر دیاہے ۔ 

عدالت میں پوچھا کہ گیا شہبازشریف کہاں ہیں ، وکیل نے عدالت میں بتایا کہ وہ کمرہ عدالت میں ہی موجود ہیں اس کے بعد عدالت عالیہ نے نیب سے پوچھا کہ آپ انہیں کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں ؟ نیب نے بتایا کہ شہبازشریف کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہاہے ۔جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔عدالت نے استفسار کیاکہ درخواست گزارشہبازشریف کہاں ہیں ؟،شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ شہبازشریف کینسرکے مریض اورکمرہ عدالت میں موجود ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو گرفتاری کا خدشہ ہےوکیل شہبازشریف نے کہاکہ نیب کوریکارڈ دے دیا پھربھی گرفتاری کیلئے بے تاب ہے ،شہبازشریف کو 5 اکتوبر 2018 کوصاف پانی کیس میں بلایا گیا،دوران ریمانڈ شہبازشریف کورمضان شوگر ملز کیس میں بھی گرفتارکرلیاگیا،نیب 63 دن کے ریمانڈ میں تفتیش کرتی رہی۔عدالت نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس کس سٹیج پر ہے،وکیل درخواستگزارنے کہاکہ شہبازشریف کیخلاف کیس انویسٹی گیشن کی سٹیج پرہے،عدالت نے کہاکہ نیب والے کہاں ہیں ،روسٹرم پرآئیں ،عدالت نے استفسارکیاکہ کیانیب شہبازشریف کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتاہے؟،نیب وکیل نے کہاکہ نیب شہبازشریف کی ضمانت کی مخالفت کرے گا،شہبازشریف کی طلبی 2 جون،وارنٹ گرفتاری 28 مئی کے تھے،عدالت نے کہاکہ جب وارنٹ پہلے نکلے تو 2 جون کوکیوں بلایا ؟،وکیل نیب نے کہاکہ جب گرفتاری کاموادآیا تب شہبازشریف کے وارنٹ جاری کیے،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعدشہبازشریف کی 17 جون تک عبوری ضمانت منظور کرلی اورنیب کوشہبازشریف کی گرفتاری سے روک دیا،عدالت نے شہبازشریف کو 5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانےکاحکم دیدیا۔یاد رہے کہ نیب کی ٹیم گزشتہ روز سے شہبازشریف کا پیچھا کر رہی ہے لیکن گرفتاری میں کامیاب نہیں ہو سکی ،نیب کی ٹیم نے شہبازشریف کے گھر پر چھاپہ بھی مارا لیکن وہ نہیں ملے جبکہ آج صبح بھی نیب نے ہائیکورٹ کے باہر گھیرواﺅ کر رکھا تھا کہ انہیں پیشی سے قبل گرفتار کیاجائے تاہم آج بھی شہبازشریف ڈرامائی انداز میں عدالت میں پہنچے ۔



افغانستان سے ایک اور پریشان کن خبر آگئی

افغانستان سے پریشان کن اور افسوسناک خبروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ایسے
وقت میں جب افغان ملک طویل خانہ جنگی ، تباہ حال انفراسٹرکچر اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں کورونا وائرس کا پھیلاو تیزی سے بڑ ھ رہا ہے۔ 
بی بی سی کے مطابق افغانستان میں ایک دن میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔کورونا وائرس کی وبا پھلینے کے بعد سے اب تک افغانستان میں ایک دن میں 860 سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق اب تک مصدقہ مریضوں کی تعداد 14525 ہے اور 249 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم ان اعدادوشمار کو حتمی نہیں سمجھا جا رہا ہے کیونکہ طویل عرصے تک جنگی صورتحال میں رہنے کے باعث افغانستان میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ پریشان کن خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آج ہی دارالحکومت کابل سے بم دھماکے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ افغانستان میں ایک نجی ٹی وی چینل کی گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے اس پر سوار ایک افغان صحافی اور منی بس کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا جبکہ گاڑی میں سوار چار دیگر افراد زخمی ہوگئے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چینل کے نیوز ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ افغان دارالحکومت کابل میں پیش آیا۔

6کروڑ افراد کے شدید غربت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اس سے ہماری تین سال کی۔۔۔"،ورلڈ بینک سے پریشان کن بیان سامنے آگیا

وفاقی حکومت نے جمعہ سے عید کی چھٹیاں کرنے کا اعلان کردیا، ختم کب ہوں گی؟

وفاقی حکومت کی جانب سے عید الفطر کیلئے 6 چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عید الفطر کیلئے 22 مئی (جمعہ ) سے 27 مئی (بدھ) تک کی چھٹیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے عید کیلئے دی جانے والی چھٹیوں کے دوران تمام کاروبار، عوامی مقامات، مارکیٹس اور دکانیں بند رہیں گی۔ عید کی چھٹیوں کے دوران صرف ضروری اشیاء کی دکانیں اور میڈیکل سٹورز کھلے رہیں گے۔

امریکا سعودی عرب سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور عسکری تنصیبات کیوں ہٹا رہا ہے؟

امریکا نے سعودی عرب سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم اوردیگر عسکری تنصیبات ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ الجزیرہ نے امریکی اخبار وال سٹریٹ

جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر نصب کیا گیااینٹی میزائل پیٹریاٹ سسٹم  اور دیگر جنگی آلات ہٹانے جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے یہ سسٹم ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے خدشے کے پیش نظر نصب کیا تھاتاہم اب اسے ہٹایا جارہا ہے۔وال سٹریٹ کے مطابق امریکہ پیٹریاٹ سسٹم کی چار بیٹریز کو ہٹارہا ہے جو زمین اور فضا سے کیے گئے میزائل حملوں کو ناکام بناتی ہیں۔ ان بیٹریز کے ساتھ درجنوں فوجی اہلکاربھی تعینات کیے گئے تھے جنہیں اب وہاں سے ہٹا دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق امریکی جنگی جہازو ں کے دو سکواڈرن پہلے ہی اس خطے سے واپس جاچکے ہیں۔ امریکا نے خلیج میں نیوی کی موجودگی میں بھی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران اب امریکا کیلئے ویسا خطرہ نہیں رہا جیسا وہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے فوری بعد محسوس ہورہا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہےکہ جنوری میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اب اس کے ساتھ کورونا کی موجودہ صورتحال نے ایران کو کمزور کردیا ہے جس سے خطے میں تہران کی صلاحیتوں میں کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس حوالے سے سعودی حکام کا موقف لینے کی کوشش کی گئی ہے تاہم ان کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب میسر نہیں ہوا۔


دوسرے ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کو کتنی امداد ملی؟ جان کر پاکستانی حکومت کے رونے پر حیران رہ جائیں گے

آئی ایم ایف نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک کو جاری کی گئی امداد کی تفصیلات اور اعدادوشمار جاری کیے ہیں جن کو دیکھ کر پتہ چلا ہے کہ پاکستان کو نائیجیریا کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ امداد ملی ہے۔ آئی ایم ایف کے اعدادوشمار کے مطابق نائیجیریا کو 3,400 ملین ڈالرز امداد دی گئی ہے جبکہ پاکستان کو 1,386ملین ڈالرز امداد جاری کی گئی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق رکن ممالک کو وڈ انیس کے معاشی اثرات سے بچانے کیلئے ایگزیکٹو بورڈ نے ریپڈ کریڈٹ فیسیلٹی اور ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ کی تحت فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق  مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ممالک کو کل 3,331.5 ملین امریکی ڈالرز دیئے گئے ہیں جن میں سے افغانستان کو 220ملین ڈالرز جبوتی کو 31.8,  جارجیا کو تین سو پچھتر اعشاریہ 60 کرغیز کو  29.6,موریطانیہ کو130 ، تاجکستان کو 189.50 ، پاکستان کومذکورہ ممالک میں  سب سے زیادہ  1,386، تاجکستان کو 189.50  اور ، تیونس کو745 ملین ڈالرز کی امداد دی گئی ہے۔ادھر ڈی ڈبلیو کے مطابق پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کا مقصد نئے کورونا وائرس کی عالمی وبا میں پاکستانی معیشت کو سہارا دینا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے ملکی اقتصادیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس تناظر میں وزیرا عظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے اپیل بھی کی تھی کہ وہ غریب ممالک کا قرضہ معاف کریں یا انہیں ری شیڈول کر دیا جائے۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 'ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ‘ (آر ایف آئی) پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے 1.386 بلین ڈالر کاہنگامی امدادی قرضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ آئی ایم ایف کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اس رقم سے پاکستان کو مدد ملے گی کہ وہ کورونا بحران میں اپنی لازمی ادائیگیوں میں توازن پیدا کر سکے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اس صورتحال میں آئی ایم ایف پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔

وفاقی حکومت نے سب سے بڑے مالیاتی سکینڈل کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ، فیصلہ واپس لے لیا

وفاقی حکومت نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی سکینڈل کے آگے گھٹنے ٹیک
دیئے ہیں ،آئی پی پی پیز سکینڈل کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ واپس لے لیاہے جبکہ کابینہ نے انکوائری کمیشن کے قیام کو بھی دو مہینے کیلئے موخر کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے 21 اپریل کو باضابطہ منظوری دی تھی کہ یہ ملکی تاریخ کا بہت بڑا سکینڈل ہے اور اس کیلئے مزید تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کا قیام بھی ناگزیر ہے اور یہ منظوری بھی د گئی تھی کہ اس کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا ، 21 اپریل کو اسدعمر نے بھی پریس بریفنگ کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ رپورٹ پبلک کی جائے گی اور انکوائری کمیشن بھی بنایا جائے گا لیکن اب چند وزراءکی جانب سے اس معاملے پر حکومت کی توجہ دلائی گئی اور کہا گیا کہ ممکنہ طور پر اس سے ایک دوست ملک کی ناراضگی بھی سامنے آسکتی ہے اور اس کے ساتھ مذاکراتی عمل آئی پی پی پیز مالکان سے جاری ہے لہذا ابھی انکوائری کمیشن نے نہیں بنانا چاہیے ،انکوائری کمیشن بنانے کا مقصدیہ تھا کہ لوگوں جن لوگوں نے قومی خزانے کونقصان پہنچایا ان کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار ہو سکے ۔اب اس معاملے کو دوماہ کیلئے موخر کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے اور دو ماہ کے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیاجا ئے گا۔

کلورین اور الکوحل کا اسپرے کوروناوائرس ختم نہیں کرسکتا“ عالمی ادارہ صحت نے حیران کن اعلان کر دیا

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کلورین و الکوحل کا اسپرے کورونا ختم نہیں کرسکتا، گرم
پانی سے نہانے سے بھی کورونا نہیں روکا جاسکتا، دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے 9 افریقی ممالک میں غذائی بحران دگنا ہوجائیگا۔عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر صاف الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ کلورین اور الکوحل کا اسپرے کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں کرسکتا، وائرس کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے پر انسانی ہاتھ سے ختم ہوسکتا ہے، لہٰذا کلورین اور الکوحل کے محلول چھڑکنے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا کہ فائیوجی موبائل نیٹ ورک کورونا کے پھیلا کا سبب نہیں بن سکتا، 25 سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر کا درجہ حرارت کسی بھی طرح کورونا وائرس کو ختم نہیں کرسکتا، ایک بار کورونا وائرس سے صحت مند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتے، بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے،10سیکنڈ تک سانس روکنے اور خشک کھانسی نہ ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ آپ کورونا سے محفوظ ہیں، الکوحل کا زیادہ استعمال آپ کوکورونا سے محفوظ رکھنے کا سبب نہیں بن سکتا۔کورونا وائرس گرم اور نمی والے علاقوں میں بھی لوگوں میں انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے، سرد موسم اور برفیلے علاقوں میں کورونا میں بھی کورونا وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے۔گرم پانی سے نہانے سے بھی کورونا کو نہیں روکا جاسکتا، کورونا وائرس مچھروں کے ذریعے بھی منتقل نہیں ہوسکتا۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس پھیلنے والے علاقوں خاص کر لاطینی امریکا میں اشیا کی سپلائی بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروازوں کو توسیع دی جائے۔عالمی ادارہ صحت کے چیف آپریشنز پاؤل مولینارو کا کہناتھا کہ اپریل میں عالمی سطح پر اپریل میں ویکسین کی فراہمی میں تعطل آیا ہے اور اگر یہ مئی میں بھی جاری رہا تو دیگر بیماریوں کے خلاف مہم متاثر ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو ورلڈ فوڈ پروگرام کو خوراک کی سپلائی میں پہلی مرتبہ رکاوٹ کی رپورٹ ملی ہے جو مزید گمبھیر ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمرشل پروازوں میں ہم زیادہ پیش کش کے خواہاں ہوتے ہیں اور ہم مسلسل اپیل کررہے ہیں۔

زبان کا سینیٹائزر کب ایجاد ہو گا ؟

کورونا وائرس چین سے شروع ہوا  اور پھر دنیا بھر میں پھیل گیا ۔ اس جان لیوا وائرس
سے  ایک لاکھ سے زائد افراد اپنی  جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔
کورونا وائرس سے بچائو کے لئے ہمیں  بہت سی حفاظتی تدابیر بھی معلوم ہوئیں  جیسا کہ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا  ، ننزلہ زکام اور کھانسی کی صورت میں  سماجی دوری اختیار کر لینا ، گھروں پر رہنا  اور سب سے بڑھ کر  ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال ۔یعنی ہاتھوں کو بار بار دھونا ، اگرچہ کہ ہمارے دین میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اور بار بار ہاتھ دھونے کی تلقین کی گئی ہے ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ  اس وائرس کے  تیزی سے پھیلائو  کے بعد ہم ہاتھ بار بار دھونے کی ہدایت پر عمل کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔اتنا خوف ہمیں اپنے خدا کا نہیں ، اپنے معبود کا نہیں  جتنا ڈر ہمیں کورونا کا ہے ۔ کورونا سے بچائو کے لئے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال  میڈیا پر بار بارہاتھ دھونے کی ہدایات جاری ہونے کے بعد بڑھتا گیا ۔
اس بات سے قطع نظر کہ  کون کون سے ہینڈ سینیٹائزر معیاری قرار دئیے گئے اور کن کو ناکارہ اور نقصان دہ قرار دیا گیا ۔ اس بات کو بھی بھول جائیں  کہ کن کن کمپنیوں کو فائدہ ہوا اور کن کو ٹھیکے ملے ۔ بات صرف یہ ہے  کہ اب رمضان  الکریم  کا بھی آغاز ہو گیا ۔کورونا کے نام پر راشن کی تقسیم کے حوالے سے بہت بے ضابطیگیاں  بھی ہوئیں  اور یہ کھاتہ اب لمبا چلنے والا ہے لہذا اسکو بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔۔ آج موضوع یہ ہے کہ ہم ظاہری حسن کی تو بہت پروا کرتے ہیں ، آرائش و زیبائش کی اشیا کا استعمال کرتے ہیں ، ہاتھوں کی صفائی ستھرائی کا بھی آج کل خیال رکھ رہے ہیں ۔ لیکن زبان ہماری نہ گالیوں سے بچی ہے نہ  کوسنوں سے محفوظ ۔بلکہ رمضان کا بہانہ بنا کر سڑکوں پر لڑائیاں ہو رہی ہیں  اور ساتھ ہی ساتھ مغلظات بکی جا رہی ہیں ۔ لاک ڈائون سے لوگوں کے کاروبار بند ہو گئے ، سب کا غصہ بجا بھی ہے  ، پولیس ہے تو وہ پریشان کہ کہاں کہاں راشن تقسیم کرے اور کہاں کہاں اپنے گھر کے لئے بھی اسی راشن میں سے بچا لے ۔بڑے تاجر ہیں  تو وہ متفکر ہیں  کہ کیا کریں ، وہ اپنی زبان کی طاقت استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ  نوکریوں سے برطرفی  کا حق بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ جیلوں میں جا کر حکومت کو دھمکایا بھی جا رہا ہے ۔حکومت ابھی تک سمارٹ لاک ڈائون اور لاک ڈائون کے فیصلوں میں الجھی ہوئی ہے ، عوام کے پیسے سے ہی امدادی رقوم تقسیم کی جا رہی ہیں  اور کہا جا رہا ہے کہ واہ بھئی واہ ہماری حکومتوں کی خیر ، حکمرانوں کا اقبال بلند ہو ۔راشن تقسیم کرنے والے میڈیا کو ڈھونڈ رہے ہیں کہ چند تصویریں ہی بنوا لیں ،  میڈٰیا والے بے روزگار اور جو ہیں وہ حفاظتی لباس کی تلاش میں سرگرداں اور راشن لینے والے کئی افراد ایسے ہیں  جن کے پاس راشن کی فراوانی ہے تو وہ  اسے اٹھا کر پرچون کی دکان پر فروخت کرنے آ گئے ہیں اور مطالبہ یہ کیا جا رہا ہے کہ راشن کی جگہ انھیں  شمپئیو  ، صابن  اور دیگر لگژری آئیٹم دے دئیے جائیں ۔ان سب جگہوں پر  تلخ جملے بولنے والوں  اور دل شکنی کرنے والے افراد کی کمی نہیں ۔ سب ہی اس وبا سے پریشان ہیں لیکن  زبان کی آلودگی تو اس وائرس سے پہلے بھی موجود تھی ہے اور رہے گی ۔جو کچھ نہیں کر سکتا  وہ اپنے رتبے اور عہدے کا خیال اور اگلے بندے کا لحاظ کئے بغیر بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  سوشل میڈیا پر گالم گلوچ میں مصروف ہے کیونکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہے اور ایسے شیطان رمضان میں بھی قید نہیں ہوتے ۔
سوچنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارے دین نے تو اس شخص کو مسلمان ہی قرار نہیں دیا جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے  دوسرے مسلمان محفوظ نہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے تولو اور پھر بولو ، کیونکہ زبان کا وزن بہت ہی ہلکا ہوتا ہے لیکن اسکی ضرب بہت کاری ہوتی ہے اور بہت ہی کم لوگ یہ وزن برداشت کر پاتے ہیں ۔آج صرف یہ سوچئیے کہ  جس طرح ہاتھ دھونے کے لئے سینی ٹائزر ایجاد ہوا ہے  کیا ہم زبان کی پاکیزگی کے لئے  اسکا سینی ٹائزر خود سے نہیں بنا سکتے ، کیا ہم اپنے رویوں کو بہتر بنا کر  زبان سے لگنے والے زخموں سے دوسروں کو بچا نہیں سکتے ۔کیا ہم غیبت سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے ؟  کیا ہم طعنہ زنی سے بچ نہیں سکتے ؟ کیا ہم سوشل میڈٰیا پر تحریر کی صورت میں  گندی زبان کے استعمال کو روک نہیں سکتے ؟ یہ سب طریقہ علاج اگر ہم اختیار کریں تو یہی ہماری زبان کا سینی ٹائزر کہلائے گا ۔۔
کیونکہ زبان اگر آلودہ ہے تو اسکا یہ وائرس تو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ 

کورونا وائرس کتنے عرصے تک رہے گا؟ عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کردیا

ایک ایسے وقت میں جب دنیا لاک ڈاون میں نرمی یا اسے ختم کرنے کا سوچ رہی ہے
عالمی ادارہ صحت نے اپنے نئے خدشات کااظہارکردیاہے۔ڈبلیو ایچ او نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کووڈ 19طویل عرصے تک دنیا میں برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ کئی ممالک میں یہ ابھی تک پھیل رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت  کے سربراہ  نےجنیوا میں بریفنگ کے دوران  کہا کہ ہم نے ایمرجنسی کا اعلان صحیح وقت پر کر دیا تھا جس کا جواب دینے کے لئے ملکوں کے پاس وقت تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک میں کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں جبکہ کئی ممالک میں یہ اب بھی پھیل رہا ہے۔ گھروں پر رہنے اور سماجی فاصلوں کے احکامات پر عملدرآمد کی وجہ سے بیماری کا پھیلنا کم ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ وائرس بہت ہی خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کورونا وائرس لمبے عرصے تک رہنے کا خدشہ ہے جبکہ مختلف ممالک میں اب بھی عالمی وبا پھیل رہی ہے۔ دنیا میں اس جان لیوا بیماری میں اضافے کا رجحان تشویشناک ہے۔
اقوام  متحدہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی یا اسے ختم کرنا وائرس کے لیے دوبارہ سر اٹھانے جیسا ہو گا تاہم کچھ ممالک میں کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ فنڈنگ روکنے سے ڈبلیو ایچ او کو کورونا سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ڈبلیو ایچ او چیف نے کہا انہیں امید ہے، امریکہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں کورونا مریضوں کی تعداد چھبیس لاکھ سینتیس ہزار سے بڑھ چکی ہے اور ایک لاکھ چوراسی ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں جب کہ سات لاکھ  سترہ ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہوئے۔
یورپ پر کورونا کے وار بدستور جاری ہیں اور فرانس میں مزید پانچ سو چالیس افراد کورونا کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

رمضان کا چاند کب نظرآنے کاامکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

ماہ مقدس کی آمد آمد ہے۔ اس سلسلے مٰیں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی تیاریاں بھی زورو شور سے جاری ہیں جبکہ رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے بھی اپنی پیشگوئی جاری کردی ہے  ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ  جمعرات کو ملک کے 80 فیصد علاقوں میں مطلع صاف  رہنے کا امکان ہے جبکہ صرف شمالی علاقہ جات اور کے پی کے کچھ علاقوں میں بادل ہوسکتے ہیں۔انسانی آنکھ سے نظرآنے کے لیےچاند کی کم ازکم عمر ساڑھے 19 گھنٹے ہونا ضروری ہے تاہم جمعرات کو رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے وقت چاند کی عمرکم ہوگی۔ذرائع محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی زیادہ سے زیادہ عمر 12 گھنٹے 15 منٹ تک ہوگی اس لیے اس بات کاامکان کم ہے کہ چاند نظرآجائے۔ دوسری جانب ترجمان وزارت مذہبی امور  عمران صدیقی کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت میٹ آفس کراچی میں جمعرات کو  طلب کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق اسلام آباد کی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کوہسار کمپلیکس میں منعقد ہوگا جب کہ تمام زونل کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوں گے۔

سعودی عرب نے پاکستانی مزدوروں کو بڑی خوشخبری سنا دی

سعودی عرب نے پاکستانی مزدوروں کو 3ماہ تک تنخواہ ادا کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
میڈ یا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے نائب سعودی وزیر برائے افرادی قوت عبد اللہ بن نصیر سے ویڈیو لنک کے ذریعے رابطہ کیا اورسعودی وزیر سے پاکستانی مزدوروں سے تعاون بڑھانے اور وطن واپسی کے لیے خصوصی اقدامات کی درخواست کی۔اس موقع پر سعودی عرب نے انٹری اور ایگزٹ ویزے کی مدت بڑھانے کا اعلان کیا اور سعودی وزیر نے کہا کہ دسمبر تک پاکستانی مزدوروں کے ویزوں کی توسیع بالکل مفت ہوگی جبکہ سعودی کمپنیاں آئندہ 3 ماہ تک محنت کشوں کو ملازمت سے برطرف نہیں کریں گی۔سعودی وزیر کے مطابق تمام ملازمین کو 3 ماہ تک تنخواہ کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور برطرف ملازمین سے بھی تعاون کیا جائے گا جبکہ پاکستانی محنت کشوں کو مکمل تنخواہ اور بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔

وزیر اعظم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور نہ مجھ سے بات کی" عمران خان کو ایک کروڑ روپےعطیہ دینے والے فیصل ایدھی کا حیران کن انکشاف۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم آفس میں
ہونے والی ملاقات میں وزیر اعظم نے انہیں پہچانا ہی نہیں۔
 گفتگو کرتے ہوئے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ شروع میں تو وزیر اعظم نے انہیں پہچانا ہی نہیں ، 6 سے 7 منٹ ان کے دفتر میں بیٹھے رہے ، اس دوران وزیر اعظم نے مجھ سے بات ہی نہیں کی لیکن جب اٹھ کر جانے لگے تو ایک صنعتکار نے میرا تعارف کرایا، جس کے بعد ہماری دروازے میں ہی آدھے منٹ کی بات ہوئی ۔
فیصل ایدھی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے 2 درخواستیں کیں۔ " میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم ایدھی یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں جس کی منظوری دلوادیں۔ دوسرا میں نے ان سے کہا کہ ہم ریسکیو مقاصد کیلئے 10 سے 12 آئٹمز امپورٹ کرتے ہیں لیکن وفاقی حکومت اس پر ہم سے ٹیکس لے لیتی ہے، 2018 اور 2019 میں ہم نے ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں 10 کروڑ روپے ادا کیے ہیں۔"
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ان کی دونوں درخواستوں کے حوالے سے اپنےسیکرٹری سے کہاجس نے وہ اپنی ڈائری میں لکھ لیں۔
خیال رہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے کورونا ریلیف فنڈ کیلئے ایک کروڑ روپے بھی دیے تھے۔
وزیراعظم پاکستان نے کل مجھے پہچانا ہی نہیں کہ میں فیصل ایدھی ہوں اور عبدالستار ایدھی کا بیٹا ہوں

ایپل کا کم قیمت میں جدید فیچر سے لیس نئے آئی فون کی رونمائی

معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے سام سنگ اور دیگر موبائل فونز کے مقابلے میں کم قیمت لیکن جدید فیچرز
سے لیس آئی فون متعارف کرایا ہے جو ایپل کی ’ایس ای سیریز‘ کا نیا ورژن ہے۔ 
 ٹیکنالوجی بالخصوص موبائلز، ٹیبلیٹس، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی دنیا میں راج کرنے والی کمپنی اپیل نے اپنے صارفین کے لیے ایک نئے موبائل فون کی رونمائی کی ہے۔ اس موبائل کی قیمت انتہائی کم رکھ کر اپیل نے اپنے صارفین کی فون 
مہنگا ہونے کی شکایت دور کردی ہے۔ یہ فون 24 اپریل سے مارکیٹ میں دستیاب ہوگا
ایپل کے اس نئے موبائل کا نام ’’ آئی فون ایس ای‘‘ ہے۔ اس سیریز کا پہلا موبائل ایپل نے 2018 میں متعارف کرایا تھا جسے کافی پسندیدگی ملی تھی تاہم نیا ایس ای فون اُس سے بھی بہتر اور جدید فیچر سے لیس موبائل فون ہے۔ شکل میں آئی فون 8 جیسا اور فیچر کے لحاظ سے آئی فون 11 کی طرح ہے۔
آئی فون ایس ای کی اسکرین 4.7 انچ ہے، پروسیسر 11 پرو ہے جب کہ وائرلیس چارجنگ کی سہولت بھی ہے۔ یہ سنگل کیمرے والا موبائل ہے جس کی ریزولیشن 12 میگا پکسل ہے، اسی طرح سیلفی کیمرے کی ریزولیوشن 7 میگا پکسل ہے۔ کیمرے کا معیار بہترین ہے۔ یہ تین مختلف رنگوں میں دستیاب ہوگا۔
ایپل کے اس نئے فون کی سب سے خاص بات اس کی قیمت بھی آئی فون 8 اور 11 کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ امریکا میں اس کی قیمت صرف 399 ڈالر ہوگی۔ موبائل مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کم قیمت کا آئی فون متعارف کر کے ایپل نے سام سنگ اور گوگل جیسی کمپنیوں کے درمیانے درجے کی قیمت والے فونز کو چیلینج کیا ہے۔
واضح رہے کہ کووڈ-19 کی وجہ سے دنیا میں موبائل فونز کی مانگ میں کمی کے باوجود موبائل فونز کمپنیاں نئے ماڈل متعارف کرارہی ہیں، رواں ہفتے ہی ون پلس نے اور گزشتہ ماہ چینی کمپنی ہواوے نے پی 40 رینج کے فون کی رونمائی کی تھی۔
 ۔

وطن واپس آنے والے پاکستانی کس طرح قرنطینہ میں رہنا ہو گا اور خرچہ کون دے گا؟ وفاحکومت نے پالیسی بدل دی

وفاقی حکومت نے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے طریقہ کار میں تبدیلی
کردی۔وطن واپس آنیوالے پاکستانی 7 دن ہوٹل میں رہیں گے، خرچہ بھی خود اٹھانا ہوگا۔ روزنامہ جنگ کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی اب ائیرپورٹ سے فوری ہوٹل منتقل کیے جائیں گے جہاں انہیں 48 گھنٹے کے بجائے اب 7 روز تک ہوٹل میں رہنا ہوگا۔

کرونا وائرس ، نفسیاتی خوف کو بھی شکست دیں



 کسی علاقے میں ایک جراح رہتا تھا اور خدا نے اسکے ہاتھ میں بہت شفا بخشی تھی ، روز بہت سے

مریض اسکے پاس آتے اور شفا یاب ہو کر چلے جاتے ۔ خیر دن گذر رہے تھے اور وہاں کے اصل ڈاکٹر اور طبیب بھوکوں مر رہے تھے ۔ آخر اس مسئلےکا حل نکالنے کے لئے سب ڈاکٹر ، حکیم اور طبیب سر جوڑ کر بیٹھے تو ایک سیانے نے کہا کہ جراح کو بلا کر انسانی جسم کے بارے میں مکمل بریفنگ دے دی جائے اور اسکے بعد اسکی حالت ملاحظہ کی جائے۔خیر ایسا ہی کیا گیا ، قصہ مختصرکہ بریفنگ کے بعد اب جب کبھی بھی جراح کسی مریض کا علاج کرنے لگتا تو اسے یاد آنے لگتا کہ فلاں رگ کے کاٹنے سے جسم کا یہ حصہ ناکارہ ہو جائے گا ۔ جراح تھا تو دیسی بندہ ، یعنی دانے ہوں ، پھوڑے ہوں یا پھنسی ، اس نے چیرا لگایا ، چیر پھاڑ کی اور یہ جا وہ جا ۔۔ باقی رہا اللہ توکل ۔۔۔لیکن اب جب اسے تھوڑا سا علم ہو گیا تو علم کے ساتھ ساتھ خوف نے بھی دل میں ڈیرے ڈال لئے کیونکہ پروفیشنل نالج نہیں تھا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو کر اپنی رہی سہی قابلیت سے بھی محروم ہو گیا ۔۔یہی حال اب کرونا وائرس کے پھیلائو کے بعد کا ہے ملک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد اب دو ہزار تک پہنچ گئی اور جس طرح یہ تعداد بڑھ رہی اسی قدرخوف کے سائے بھی بڑھنے لگے ہیں ۔ بچے بڑے سب گھروں میں بند ہیں اور انتہائی معذرت کے ساتھ کوئی بھی تعمیری کاموں میں مشغول نہیں ۔ یہ وائرس ذہنی اذیت بھی پیدا کر رہا ہے ، حکومت کے بار بار کہنے کی باوجود ہم سب عجیب مخمصے کا شکار ہیں کہ ہمیں ہی کہیں کرونا نہ ہو جائے اور بسا اوقات تو یہ لگنے بھی لگتا ہے کہ کرونا ہمیں بھی خدانخواستہ ہو ہی گیا ہے ، یہ سب ذہنی خلفشار ہے مان لیا کہ سینیٹائزر کا استعمال ، باربار ہاتھ دھونا ، سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے لیکن ان سب چیزوں نے نفسیاتی خوف کو بھی جنم دیا ہے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ کرونا وائرس سے اتنا نہیں مریں گے جتنی آسانی سے لوگ خوف سے مر جائیں گے ۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاں بیس کروڑ کی آبادی کے لئے صرف ۴ بڑے نفسیاتی ہسپتال موجود ہیں ۔پاکستان میں ذہنی امراض کی شکایت کے حوالے سے ذہنی دباؤکے6فیصد، شیزو فرینیاکے 1.5فیصد اور مِرگی کے 1سے 2 فیصد افراد پائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں کروڑوں افراد کے لئے صرف چند سو ذہنی معالج موجود ہیں ۔ دنیا بھر میں ہرسال شدید ڈیپریشن کی وجہ سے ۱۰ لاکھ افراد اپنی جان لے لیتے ہیں ۔یہ ذہنی معالج پہلے ہی کام کے دبائو کا شکار ہیں ، میڈیا ہے تو ہر جگہ کرونا کرونا ، پیرا میڈیکل سٹاف اور میڈیا کے اراکین کی ذہنی حالت بھی اس موذی وبا کے دوران تشویش ناک ہو سکتی ہے ۔
یہ لوگ تو ۲۴ گھنٹے کے دوران ایک پینک کا شکار ہیں ، دوسری طرف عوام بھی ہمت ہار رہے ہیں ۔۔کہتے ہیں کہ لوگ ایسے نہیں مرتے بلکہ ڈر کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے عوام کو بہت سے حوادث کا سامنا رہا، کبھی ۲۰۰۱ کا سیلاب تھا تو کبھی آزاد کشمیر میں ۲۰۰۵ میں آنے والا زلزلہ ، کوڑھ ، ڈینگی اور اب یہ قاتل کورونا ۔لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم سب حوصلہ ہار دیں ، گھر بیٹھ کر ہائے ہائے کرنے لگیں کم ازکم میں نے ابھی تک کوئی ایسا پروگرام نہیں دیکھا جس میں عوام الناس کو نہ گھبرانے کی تلقین کی گئی ہو ، حوصلہ دلایا گیا ہو۔ ہاں البتہ ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے والے پروگراموں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ لوگوں میں اتنا خوف پیدا ہو رہا ہے کہ سماجی فاصلہ تو ہے ہی ہے دوسروں کی تکلیف میں ذہنی دوری بھی پیدا ہونے لگی ہے ۔نفسیاتی خوف جسمانی تکلیف سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ذہنی حالت میں خرابی انسان کو زندگی سے ہی مایوس کر دیتی ہے اور پھر وہ خود کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے ۔
خدارا اس ملک میں ذہنی مریض پہلے ہی بہت زیادہ ہیں ان میں اضافہ مت کریں ۔۔خدارا ہمیں ان ڈاکٹروں کی طرح بریفنگ نہ دیں جنہوں نے جراح کو بھی مشکل میں ڈال دیا ۔۔براہ مہربانی ذمہ داری کا ثبوت دیجئیے سوشل میڈیا پر جعلی طبی مشورے شئیر کرنا چھوڑ دیجئیے ۔
x

بچوں کی تعلیم کیلئے بڑا قدم، وزیر اعظم نے ٹیلی سکول چینل کا افتتاح کردیا، کلاسز کی ٹائمنگ کیا ہوگی؟

وزیراعظم عمران خان نےٹیلی سکول چینل کاافتتاح کردیا، اس چینل کے ذریعے  کورونا  لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں  محدود ہوجانے والے طلبہ کو تعلیم دی جائے گی۔وزارت تعلیم اور پی ٹی وی کے اشتراک سے شروع کیے گئے چینل پرپہلی جماعت سے لے کر 12 ویں جماعت تک صبح 8 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک کلاسز ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ مختلف دیہاتوں میں آج بھی ٹیچرزنہیں پہنچے وہاں بچے اس ٹیلی سکول چینل کے ذریعے مستفیدہوں گے، ٹیلی سکول چینل میں بہتری کیلئےحکومت جوبھی کرسکی وہ کرےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث ایسے حالات پیدا ہوئے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے ، قوم پر بڑا مشکل وقت ہے، ٹیلی سکول چینل میں جو بھی بہتری ہوئی وہ کر یں گے، ٹیلی ایجوکیشن اور ٹیلی میڈیسن کو ہم  دور دراز کے علاقوں میں پہنچا سکتے ہیں، یہ راستہ آگے بڑھنے کا ہے، موبائل فون کی وجہ سے بڑے بزرگ بھی سیکھنا چاہتے ہیں۔

عودی عرب میں مقیم ملازمین کے لیے سب سے خطرناک خبر آگئی، کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگنے والا ہے، حکومت نے اجازت دے دی


سعودی عرب میں مقیم ملازمین کو کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگنے کی تیاری۔ حکومت نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے کاروباری اداروں کو تنخواہوں اور اوقات کار میں کمی کی اجازت دے دی۔ عرب نیوز کے مطابق سعودی حکومت نے ایسے نجی کاروباری اداروں کے مالکان کو اجازت دے دی ہے کہ وہ وائرس کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر سکتے ہیں اور اوقات کار بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ اجازت سعودی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی کی طرف سے دی گئی ہے۔ وزارت کی طرف سے اس میں ایک شرط رکھی گئی ہے کہ ادارے یہ کام ملازمین کی رضامندی کے ساتھ کریں گے۔ جس ملازم کی تنخواہ جتنی کم کی جائے گی اس کی ڈیوٹی کا وقت بھی اسی تناسب سے اتنا ہی کم کیا جائے گا۔ وزارت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی ورکر کے ساتھ کوئی ناانصافی ہو تو وہ وزارت کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اس کی شکایت کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم بنانے کیلئے کیا منصوبہ بنایا اور پھر چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کیا ؟ جہانگیر ترین خان پہلی مرتبہ بول پڑے ، انکشاف کر دیا

سینئر صحافی ندیم ملک نے وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست سمجھے جانے والے اور آج کل چینی
بحران تنازع میں زیر بحث شخصیت جہانگیر ترین کا انٹرویو کیا ، جس دوران انہوں نے سوال کیا کہ آپ کی آدھی پارٹی اس وقت بہت خوش ہے ، وہ کہتے ہیں ، اچھا ہے جہانگیر ترین کو سزا ملی اور وہ فارغ ہو گیا ، اس نے پارٹی کو قابو میں کر کے رکھا ہوا تھا ؟۔
جہانگیر ترین نے سوال سننے کے بعد جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو اس کی پوری کہانی بتاتا ہوں کہ مخالفت کی بنیادی وجہ نظریے کا فرق ہے ، 2013 کے الیکشن میں ہم بری طرح ہار گئے ، دھاندلی کا شور کیا اور دھاندلی ہوئی ، چندسیٹوں پر ہوئی ۔جہانگیر ترین کی چند سیٹوں والی بات سن کر ندیم ملک تھوڑا سا چونکے اور انہوں نے دوبارہ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ” صرف چند سیٹوں پر ؟“جس پر جہانگیر ترین نے کہا کہ میری بات سن لیں ، میں کھل کر بات رہاہوں ۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد میں عمران خان کے پاس گیا اور کہا کہ ہم نے اگلا الیکشن جیتنا ہے ، جس طرح ہم نے پچھلا الیکشن لڑا اور جس طرح ٹکٹیں دیں ، ہم جیت نہیں سکتے ۔جہانگیر نے بتایا کہ عمرا ن خان نے مجھے کہا کہ تمہارا مطلب کیا ہے ؟،میں نے کہا کہ یہ پنجاب کا ڈیٹا ہے ، 50 فیصد سیٹیں جب ہمار ہارے تو ان میں ہمارے امیدوار دوسرے نمبر پر بھی نہیں آئے ، ہم ٹیبل پر ہی نہیں تھے ، ہمارے امیدوار تیسرے ، چوتھے اور پانچویں نمبر پر تھے ، اگر پیمانہ لگائیں تو جہاں سکینڈ آئے اور کم از کم بیس فیصد ووٹ لیے ہیں تو 66 فیصد ایسے تھے جہاں ہمیں 20 فیصد ووٹ بھی نہیں ملے تھے ۔جہانگیر ترین نے بتایا کہ میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے امیدوار غلط تھے ، ہم نے امیدوار تبدیل کرنے ہیں ، یہ پنجاب ہے یہاں سیاسی خاندان ہیں جب تک ہم سیاسی خاندانوں کے لوگ نہیں لائیں گے آپ وزیراعظم نہیں بن سکتے ۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ اس پر پارٹی میں بہت اختلاف ہوا میرے مخالف کہتے ہیں جہانگیر ترین پارٹی ٹیک اوور کرتا ہے ، یہ اپنے لوگ لے کر آیاہے ، بابا یہ میرے لوگ نہیں ہیں یہ سیاسی خاندانوں کے لوگ ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے  اس دفعہ 67سیٹیں جیتیں اس میں 80 فیصد لوگ سیاسی خاندانوں کے ہیں ، 60 فیصد ایسے لوگ ہیں جو سیاسی خاندان کے ہیں اور 2013 کے بعد انہوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے ۔انہوں نے کہا ان میں سے کافی لوگوں کو پارٹی میں ، میں لایا ہوں اور کچھ خود بھی آئے ہیں جبکہ باقی اور لوگ بھی لائے ہیں ۔جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ سوچ لیں اس وقت جو اسمبلی بیٹھی ہے ، پنجاب میں سے 60 فیصد وہ لوگ ہیں جو سیاسی خاندانوں سے ہیں اور 2013 میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ، اس طرح عمران خان وزیراعظم بنے ہیں ۔
یاد رہے کہ چینی اور آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ میں خسرو بختیار اور جہانگیر ترین کا بھی نام آیا ہے جن کی شوگر ملز نے سبسڈی حاصل کی ۔

کورونا وائرس ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں سب سے واضح نظر آنے والا مختلف پہلو، اس بیماری کی ٹیسٹنگ یا جانچ کا طریقہِ کار ہے۔
تو کون کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں اور مختلف ممالک میں یہ کتنے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں؟

کورونا وائرس کے ٹیسٹ کتنی اقسام کے ہیں؟

برطانیہ کے اکثر ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے ٹیسٹوں کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا کسی میں کووڈ 19 موجود ہے یا نہیں۔
سواب ٹیسٹ ناک یا گلے سے نمونہ لے کر کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں وائرس کے جینیاتی مواد کی نشاندہی کے لیے لیبارٹری بھیج دیا جاتا ہے۔۔ک دوسری قسم کا ٹیسٹ اینٹی باڈی ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا پہلے ہی کسی شخص کو وائرس ہوچکا ہے یا نہیں۔
اس دوسری قسم میں ایک آلے پر خون کے ایک قطرے کا استعمال کرتے ہوئے قوتِ مدافعت دیکھی جاتی ہے۔ یہ بالکل حمل کے ٹیسٹ جیسا ہے۔
برطانوی حکومت نے ساڑھے تین لاکھ اینٹی باڈی ٹیسٹ خریدے ہیں لیکن ابھی تک ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں مل سکا جسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے قابل اعتماد سمجھا جا سکے۔

یہ ٹیسٹ کس حد تک درست نتائج دیتے ہیں؟
ہسپتالوں میں زیرِ استعمال 

تشخیصی ٹیسٹ بہت قابل اعتماد ہیں۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان ٹیسٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ہر کیس کی نشاندہی ممکن ہو گی۔ اگر کوئی مریض اپنے انفیکشن کے بالکل آغاز میں ہے یا اگر اس کے جسم میں وائرس کی تعداد بہت کم ہے تو ایسے مریض کا ٹیسٹ منفی بھی آ سکتا ہے۔
اور سواب ٹیسٹ کے لیے گلے سے نمونہ لیتے ہوئے کافی تعداد میں وائرس نہیں اٹھایا جا سکا تو اس صورت میں سواب ٹیسٹ منفی آ سکتا ہے۔
ابھی تک اینٹی باڈی ٹیسٹس اتنے قابل اعتماد ثابت نہیں ہوئے۔
برطانیہ میں محکمہِ صحت کے سیکرٹری میٹ ہینکوک نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ 15 بہترین اینٹی باڈی ٹیسٹوں کا تجربہ کیا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی بہتر نہیں تھا۔
برطانیہ میں ان ٹیسٹیوں کی نگرانی کرنے والے پروفیسر جان نیوٹن نے ٹائمز اخبار کو بتایا کہ چین سے خریدے گئے ٹیسٹ ایسے مریضوں میں اینٹی باڈیز کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہے جو کورونا وائرس سے شدید بیمار تھے۔ لیکن ایسے مریض جن کی حالت زیادہ خراب نہیں تھی، ان میں ناکام رہے۔

ٹیسٹنگ کیوں ضروری ہے؟

لوگوں کی ٹیسٹنگ کرنے کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی، انفرادی طور پر ان کی تشخیص کرنا اور دوسرا یہ معلوم کرنا کہ ان میں وائرس کس حد تک پھیل چکا ہے۔
یہ معلومات محکمہ صحت اور طبی عملے کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ انتہائی نگہداشت کے کتنے یونٹس کی ضرورت پڑے گی۔
ٹیسٹنگ، معاشرتی دوری جیسے اقدامات کے متعلق فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر لوگوں کی بڑی تعداد پہلے ہی انفیکشن سے متاثر ہو چکی ہے تو ایسی صورت میں لاک ڈاؤن کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اور زیادہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صحت کے کارکنان سمیت، بہت سارے لوگ بلا وجہ خود کو الگ تھلگ کر سکتے ہیں۔

مختلف ممالک کتنے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کر رہے ہیں؟

جنوبی کوریا، جو برطانیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنے میں کامیاب رہا ہے، انھوں نے ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری کو منظور کرنے کے لیے بہت تیزی سے کام کیا۔ اس اقدام نے انھیں بہت سی کٹس ذخیرہ کرنے کے بھی قابل بنایا۔
اگرچہ جنوبی کوریا کی آبادی برطانیہ سے کم ہے لیکن ان کے پاس دگنی تعداد میں لیبارٹریاں اور برطانیہ کے مقابلے میں ہفتہ وار ٹیسٹنگ کی ڈھائی گنا زیادہ صلاحیت موجود ہے۔
جرمنی نے برطانیہ سے تین گنا زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں۔
27 مارچ تک ، جرمنی نے ایک لاکھ شہریوں میں 1096 کے ٹیسٹ کیے جبکہ یکم اپریل تک برطانیہ ہر ایک لاکھ آبادی میں سے صرف 348 کے ٹیسٹ کرنے میں کامیاب ہو سکا تھا۔
اس کے موازنے میں اٹلی میں ہر ایک لاکھ کی آبادی میں سے 895، جنوبی کوریا میں 842، امریکہ میں 348 اور جاپان میں 27 سے کیا جا سکتا ہے۔