رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ انہیں شہزاد اکبر کے اس دعوے کہ برطانیہ میں کسی کی بھی جائیداد سرچ انجن 192.کام کے ذریعے تلاش کی جاسکتی ہے سے ایک اشارہ ملا۔ڈان کے مطابق انہوں نے بتایا کہ سرچ انجن کو کچھ معروف شخصیات کی جائیدادیں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا گیاجس کے تنائج کے مطابق برطانیہ میں عمران خان کی جائیدادیں 6، شہزاد اکبر کی 5 ، سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی ایک، ذوالفقار بخاری کی 7، عثمان ڈار کی 3، جہانگیر ترین کی ایک اور پرویز مشرف کی 2 جائیدادیں ہیں۔
جج کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد معروف عوامی شخصیات ہیں اور انکم ٹیکس، فارن ایکسچینج یا منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ میں غیر قانونی جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔ انکم ٹیکس قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو اپنا ریکارڈ چیک کرنا چاہیئے اور دیکھنا چاہیئے کہ کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر ہے اور ان شخصیات نے کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔

No comments:
Post a Comment