وائرس پر زبردست آرٹیکل! پڑھیں اور سلامت رہیں!



وائرس کی اپنی بائیو سنتھیٹک مشینری (biosynthetic machinery) نہیں ہوتی. جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا. یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا. یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا. یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا. حرکت نہیں کر سکتا. وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے. اسی لئے تمام وائرسز کو (obligate endoparasites) کہا جاتا ہے. یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم کے اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں. عمل تولید کر سکتے ہیں. انہیں لیبارٹری میں آرٹی فيشل ميڈيا پر grow نہیں کیا جاسکتا. وائرس چونکہ خود سے حرکت بھی نہیں کر سکتا اس لئے یہ passively ہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے. ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اس کے جسم کے سیلز میں گھستا ہے. وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں. اس کے لئے انرجی یعنی ATP پیدا کر رہے ہوتے ہیں. بیماریوں کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں. مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کے لئے اپنا اپنا بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں. جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے. سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کے لئے کرنا شروع کردیتے ہیں. وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے. ایک سے دو. دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے. وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے. اسی دوران یہ ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز (lysis) کہا جاتا ہے. ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں. ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں. اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں. ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے. کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہوجانے کے باوجود نارمل دکھائی دیتا ہے. ان مراحل کو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ (incubation period) کہا جاتا ہے. بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک یہ انکیوبیشن پیریڈ جاری رہتا ہے. جب ہوسٹ کے باڈی سیلز ایک خاص تعداد تک تباہ ہو جائیں تب جسم نارمل فنکشنز نہ کر سکنے کی وجہ سے بیماری کی علامات ظاہر کرنا شروع کرتا ہے.

اس ساری معلومات کا مقصد آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر آپ اب تک کرونا میں مبتلا نہیں بھی ہیں پھر بھی آپ خود کو اور دوسروں کو بچائیں. آپ میں سے کوئی بھی وائرس کا کیرئیر ہوسکتا ہے مگر وائرس انکیوبیشن پیریڈ میں ہونے کے باعث علامات ظاہر نہیں کر رہا.
بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کا اب تک کوئی خاص علاج دریافت نہیں ہوا ہے تو کرونا میں مبتلا لوگوں کی ایک خاص تعداد ہسپتالوں سے صحتیاب ہو کر کیسے ڈسچارج ہو رہی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز (quarantine) قائم کرنے کا واحد مقصد کرونا میں مبتلا لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے. تاکہ بیمار لوگ اپنے اردگرد صحت مند لوگوں تک وائرس کی منتقلی کا سبب نہ بنیں. آئزولیشن سنٹرز میں داخل مریضوں کو دنیا بھر میں صرف سادہ پین کلرز دی جا رہی ہیں. سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹرز پر شفٹ کیا جا رہا ہے. جو لوگ صحتیاب ہورہے ہیں وہ اپنے جسم کے مدافعتی نظام کے باعث ہورہے ہیں. مدافعتی نظام یا امیون سسٹم بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کے خلاف ہمارے جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے. اور یہی قدرتی حفاظتی نظام ہی لوگوں کو کرونا سے محفوظ کر رہا ہے.
لوگوں کا ایک دوسرا سوال بھی ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے؟ کرونا وائرس سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے. شروع میں جب وائرس سانس کی نالیوں کی دیواروں کے سیلز میں گھستا ہے تو ری ایکشن کے طور پر ریسپائیریٹری نالیاں میوکس پیدا کرتی ہیں جس سے نزلہ، زکام، کھانسی اور چھینکیں آنا شروع ہوجاتی ہیں. جسم وائرس کا قلع قمع کرنے کے لئے نارمل باڈی ٹمپریچر جوکہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے کو بڑھا دیتا ہے. اس وجہ سے بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں. ان سارے عوامل سے یا تو وائرس کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور مریض کے کرونا ٹیسٹس منفی آنے لگ جاتے ہیں. یا پھر اگر یہ سارے عوامل کام نہ دکھا پائیں تو ہم کہتے ہیں کہ مریض کا امیون سسٹم کمزور ہے اور پھر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہوتی ہے. اس کے بعد ہر لمحہ مریض کو بچا پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے.
ان ساری تفصیلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس عالمی وبا کے خلاف کھڑے ہوکر خود کو بچانا ہے. اپنے اہل خانہ کو بچانا ہے. اپنے ملک کو بچانا ہے. اور تمام نسل انسانی کو اس بحران سے پار اتارنا ہے. اپنے گھروں میں قیام کریں. اپنے ہاتھوں کو دھوتے رہیں. مصافحے اور معانقے سے پرہیز کریں. پرہجوم جگہوں سے دور رہیں. سیر سپاٹے ترک کریں.

کرونا وائرس تحقق ، حقاہق اور ہسٹری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

چین نے4جنوری 2020 ءکو پہلی بار خاص طور پر ووھان شہر میں دسیوں افراد کے کرونا کے مرض میں مبتلا ہونے کا اعلان کیا اور اس کو covid-19کا نام دیا پھر یہ مرض تقریبا ساری دنیا میں پھیل گیا ،بہت سے ممالک نے اپنی سرحدیں بند کردیں اور نقل وحرکت پر پابندی لگادی، اس کے بعد جمعہ اور جماعت کی نمازیں بھی روک دی گئیں، اس مرض نے عالمی معیشت پر کاری ضرب لگائی ،امریکہ اور چین نے ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کر دیے ۔۔۔اس وبا کا مصدر کیا ہے؟ عالمی معیشت پر اس کا عملاً کیا اثر ہوگا؟ اس کا درست علاج کیا ہے؟ کیا اس مرض کے سبب جمعہ اور جماعت کی نماز روکنا درست ہے؟


کرونا وائرس کو انگریزی میں Crown عربی میں اس کےمعنی تاج کے ہیں کیونکہ مائیکروسکوپ میں اس کی شکل تاج کی طرح کی ہوتی ہے۔ 1960ء میں پہلی بار Viridi کرونا کا انکشاف ہوا تھا، اسی وائرس کے خاندان سے 2003 میں چین کے علاقے ہانگ کانگ میں ایک وائرس کا انکشاف ہوا جس کو سارس کا نام دیا گیا ،جس سے 8422 افراد متاثر ہوئے جن میں سے 916 اموات ہوئیں ۔ 2004ءاور 2005 ءمیں اس کی نئی اقسام منظر عام پر آئیں، یوں یہ تسلسل سے سامنے آتا رہا خاص کر 2012 ءمیں اور 2014 ءمیں مگر یہ محدود علاقوں میں محدود پیمانے پر تھا۔ دسمبر2019 میں چین کے شہر ووھان میں یہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے ،حالیہ وائرس سارس 2وائرس سے96٪مشابہ ہے اس لیے اس کو 2019 میں کرونا وائرس کا نام دیاگیا مختصر طور پر اس کوCovid19 کہاجاتاہے جوکہ 2019 ءمیں اس کے ظہور کی طرف اشارہ ہے ۔پہلی بار اس کا شکار ہونے والوں کے تانے بانے ووھان شہر کی سمندری اور جنگلی حیات کی فوڈ مارکیٹ سے ملے، یہاں سے ہی یہ کئی ملحقہ علاقوں میں پھیل گیا ۔پھر اس کے چمگادڑکے تاج والے وائرس سے96٪ مشابہت بھی سامنے آگئی جس کی وجہ سے اس کو اصولی طور پر چمگادڑ سے منسوب کیاگیا۔ اس بار اس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا جن میں سے بیشتر کاتعلق چین سے تھا،جہاں 81193 افراد اسے متاثر ہوئے جن میں سے3ہزار ہلاک ہوئے، اس کے بعد اٹلی، ایران، اسپین، فرانس اور امریکہ... میں اس کے پھیلنے سے دنیا کے ہرگوشے میں خوف وہراس پھیل گیا یہاں تک کہ24مارچ 2020 ءتک400400افراد کے اس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے اور تقریبا 20ہزار افراد اس سے مرچکے ہیں(Deutsche Willi 25/3/2020) اقوام متحدہ کے سربراہ António Guterres نے کہا کہ Covid-19 کو پھیلنے سے نہ روکا گیا تو کئی ملین لوگ مرجائیں گے( ایرو نیوز- 19مارچ 2020)... اسی لیے کئی ممالک نے سکو ل یونیورسٹیوں کو بند کردیا اور اجتماعات پر پابندی لگا دی، لاک ڈاؤن اور اجتماعی قرنطینہ کا اعلان کیا حتی کہ جمعہ اور جماعت کی نماز معطل کرنے کا اعلان کیا.... اس سے پیدا ہونے والے مندرجہ ذیل امور کی وضاحت ضروری ہے:

اول : کیا اس مرض کے پس پردہ کوئی ہے جس نے اس کو بناکر پھیلایا یا یہ بھی دوسرے امراض کی طرح اللہ کا فیصلہ اور انسانوں کے اعمال کا نتیجہ ہے؟

دوم : کیا سرمایہ دارانہ دنیا نے اس مسئلے کا درست حل دیا؟ اس جیسے حالات کا شرعی حل کیا ہے؟

سوم : تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر اس کرونا وبا کا کیا اثر ہوگا؟

چہارم : کیا اس مرض کے سبب جمعہ اور جماعت کی نماز ترک کرنا جائز ہے؟

اول : اس مرض کی ابتدا اور اس کے پس پردہ محرکات:

1) کرونا Covid-19 کا پھیلاؤ چین سے شروع ہوا، سائنسی اور طبی تحقیق کہتی ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہوا ،اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ چین کے کفار عام طور پر ہر قسم کے جانوروں کو کھاتے ہیں وہ پاک اور ناپاک میں فرق نہیں کرتے...جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کا شہر ووھان اس قسم کے خبیث گوشت کا تجارتی مرکز ہے، اور یہی شہر اس بیماری منبع ہے۔

یوں کرونا چین میں پھیلا ،پھر ایران میں ان چینی مزدوروں کے ذریعے منتقل ہوا جو قم شہر میں ریلوے ٹریک تعمیر کرنے والی چینی کمپنی میں کام کر رہے تھے... پھر ایران سے ہی کرونا پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گیا۔ اسی طرح اٹلی نے بھی چینی سرمایہ کاری سے نقل و حمل کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو شروع کیا تھا.... رپورٹس کے مطابق لومباڈی اور ٹوسکانا کے علاقے میں ہی سب سے زیادہ چینی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور لومبارڈی کے علاقے میں ہی 21 فروری کو کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا اور یہی علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے...

2) چین کی طرف سے کرونا سے نمٹنے میں کوتاہی اورابتدا میں اس کو چھپانے اور اس پر قابو پانے میں ناکامی پر امریکہ چین پر برس پڑا جس پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان"ژاو گیان" نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے13مارچ 2020 ءکوٹویٹ کیا کہ :"اس بات کا امکان ہے کہ امریکی فوج کرونا وائرس ووھان میں لائی ".... (الشرق الاوسط 13مارچ 2020) ۔امریکی صدر نے بھی چین پر وار کرتے ہوئے کہا:"چین کی جانب سے نئے کرونا کے حوالے سے معلومات فراہم نہ کرنے کی دنیا کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی".... (ایرو نیوز 19/3/2020)..... 16مارچ 2020 کو امریکی صدر نے اپنے ٹویٹ میں کرونا کو چینی وائرس قرار دیتے ہوئے کہا:"امریکہ چینی وائرس سے متاثرہ شعبوں جیسے ہوا بازی کو بھاری امداد دے گا"۔ چینی وزارت خارجہ نے17مارچ 2020 کو اس کا جواب دیتے ہوئے کہا:" یہ بات چین کو بدنام کر رہی ہے ہم اس پر سخت ناراض ہیں اور اسے سختی سے مسترد کرتے ہیں"... (رشیا ٹُو ڈے 18/3/2020) ۔جب شروع میں چین نے یہ الزام لگایا کہ وائرس کو پھیلانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے تو واشنگٹن نے13مارچ 2020 کو چینی سفیر کو طلب کیا اور امریکی دفتر خارجہ کے عہدیدار نے کہا:" سازشی نظریات کو پھیلانا سخت خطرناک اور گِرا ہوا کام ہے ہم چینی حکومت کو تنبیہ کرتے ہیں کہ اس کو معاف نہیں کریں گے۔ چینی قوم اور دنیا کا مفاد اس میں ہے کہ چین وبا کے پھیلنے میں اپنے کردار کی تلافی کرے" پھر شینگونیوز ایجنسی نے یہ زور دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے اقدامات اورکئی ملین افراد کے قرنطینہ سے دنیا کو" قیمتی وقت"مل گیا جس کا عالمی برادری بھی اعتراف کررہی ہے(رشیا ٹو ڈے 15/3/2020)۔

3) یوں کرونا وائرس Sars Cov2 یعنی Covid19کے پھیلنے پر امریکہ اور چین کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی ۔دونوں ایک دوسرے پر اس وبا کو پھیلانے کے براہِ راست ذمہ دار ہونے کا الزام لگارہے ہیں اگرچہ دونوں حکومتوں کا اس کے پھیلاؤ کے پیچھے ہاتھ ہونا بعید از امکان نہیں تاہم اس حوالے سے چھان بین کے بعداس وبا کو پھیلانے کے پیچھے امریکہ یا چین کے ہاتھ ہونے اور اس کو دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے کی  کوئی ٹھوس دلیل نہیں، اس کے دونمایاں اسباب ہیں:

پہلا: یہ دونوں ملک خود اس مرض میں گردن تک ڈوب گئے ہیں ،تادم تحریر اعداد وشمار کے مطابق چین میں کرونا سے متاثرین کی تعداد 81272 اور مرنے والوں کی تعداد3273ہے جیسا کہ چائنا نیشنل ہیلتھ کمیٹی نے23مارچ 2020 کوکہا: اگروہ اس کو پھیلانے کے ذمہ دار ہوتے تو کم از کم اپنے آپ کو بچالیتے۔

جبکہ CNN Health کےمطابق امریکہ میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 704اور متاثرین کی تعداد تادم تحریر52976ہے (سی این این عربی 25مارچ 2020)۔ چین اور اٹلی کے بعد کرونا سے متاثر ملکوں میں امریکہ تیسرے نمبر پر ہے... تازہ ترین اقدامات کے مطابق سات ریاستوں میں ایک تہائی امریکیوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کے احکامات دئیے گئے ہیں نیویارک، کونیٹیکٹ اور نیوجرسی کے بعدلویزیانا اور اوہائیو نے بھی نقل و حرکت پر پابندی لگادی ہے(الجزیرۃ 23مارچ 2020) ۔پس اگر اس مرض کو پھیلانے کے پیچھے امریکہ ہوتا توکم از کم اپنے آپ کو بچالیتا۔

دوسرا: ان دونوں ممالک میں سے کسی ایک کی جانب سے اس وائرس کو بنانے کی بات اس لیے بھی درست نہیں کہ ابھی تک کوئی ایسی دلیل نہیں کہ یہ وائرس لیبارٹری میں بنایاگیا ہے چنانچہ Nature Medicine میگزین کے مطابق "پہلے سے معلوم کرونا وائرسوں کی اقسام کے جینیاتی مادے کی ترتیب کے حالیہ کرونا وائرس  کے ساتھ تقابل سے یہ بات مضبوطی سے ثابت ہو تی ہے کہ یہ کرونا وائرس فطری عمل کے نتیجے میں بناہے" میگزین نے یہ بھی کہا ہے کہ"اس بات کی تائید وائرس کے بنیادی ڈھانچے اور مالیکیولر سٹرکچر کے متعلق معلومات سے بھی ہوتی ہے ۔لیبارٹری میں بنائے گئے وائرس کو اس کے بنیادی ڈھانچے سے پہچانا جاسکتاہے"https://www.npr.org ۔ یہی بات روس ،یورپ، ایران سمیت عالم اسلام میں قائم تمام ریاستوں کے متعلق بھی ہے، یہ سب بیماری کے منتقل ہونے میں چین یا امریکہ میں سے کسی ایک سے متا ثر ہوئے۔

اس لیے اللہ کے اس ارشاد کے علاوہ کوئی بات نہیں کہ: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ "لوگوں کے اعمال کے سبب بحروبر میں فساد برپا ہوگیاہے تاکہ ان کے بعض اعمال کا مزہ ان کو چکھادے شاید وہ باز آئیں"۔ یہ بات تو ہم سب کو معلوم ہے کہ سرمایہ دار وں اور ان کے پیروکاروں نے اس دنیا کو شروفساد کی آماجگاہ بنادیاہے ۔ یہ اپنے مفادات اور ہوس کے علاوہ کسی چیز کو اہمیت نہیں دیتے... امریکہ، چین، روس، یورپ … کے حکمران ہی اس دنیا کی بدبختی اور اقوام کی مصائب کا سبب ہیں، انسانیت کے خلاف ان کے جرائم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے ہی نہتے انسانوں پر ایٹم بم، افزودہ یورینیم اور جلانے والے نیپام بم گرائے، افریقہ کے قبائل کو وحشیانہ طریقے سے غلام بنایا، ان کو اپنے بائیولاجیکل اور کیمیکل ہتھیاروں کے تجربات کے لیے تختۂ مشق بنایا، ریڈ انڈینز کی نسل کشی کی جنگ ان کی پیشانی پر رسوائی کا داغ ہے، ایغور مسلمانوں پر چین کے جرائم نے زمین و آسمان کو بھر دیا، روس اور سربوں کے وسطی ایشیا اور بلقان میں جرائم اور شام میں ان کے ہولناک جرائم ابھی جاری ہیں، برصغیر کے مسلمانوں اور غیر مسلموں پر برطانوی جرائم کے اثرات آج بھی ہیں، یہ جرائم اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اقوامِ عالم پر حکمرانی کرنے والے یہ ممالک انسانیت کی بدبختی کا سبب ہیں جیسا کہ اللہ طاقتور غالب ان کے بارے میں فرماتاہے: ﴿فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَؤُلَاءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ﴾ "وہ اپنے اعمال کے وبال سے دوچار ہوئے اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں کو عنقریب اپنے اعمال کے وبال کا سامنا ہوگا اور یہ (اللہ کو )عاجز کرنے والے نہیں"۔

دوم: سرمایہ داروں اور ان کے پیروکاروں کی جانب سے اس مسئلے کے حل میں غلطی اور اس کا درست شرعی حل:

سرمایہ داروں اور ان کے پیروکاروں نے اس مسئلے کو تین مراحل میں حل کرنے کی کوشش کی

**پہلا مرحلہ: اس معاملے کا بلیک آوٹ

1) چینی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ چینی حکومت نے چینی عوام اور دنیا سے اس قاتل مرض کی حقیقت کو چھپایا۔چینی حکومت دسمبر2019 کے وسط سے ہی اس کے پھیلاؤسے باخبر تھی مگر اس نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی  اور سال کے آخر میں اس کے شکار افراد کی تعداد بڑھنے تک اس کا اعتراف نہیں کیا۔ چینی-امریکی صحافی "شانگ وی وانگ" نے کہا کہ حکومت نے جنوری تک ووھان کی سمندری فوڈمارکیٹ کو بھی بند نہیں کیا جہاں سے یہ مرض پھیل گیاتھا۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ بحران کی ابتدا میں اس مرض کے بارے میں معلومات کاتبادلہ کرنے پر 8 چینی باشندوں کو غیر مصدقہ معلومات فراہم کرکے قانون شکنی کا مرتکب قرار دے کر گرفتار کیاگیا، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ووھان میں مقامی اتھارٹیز کہہ رہی ہیں کہ حالات معمول پر ہیں اور 18 جنوری کو ایک روایتی مقامی تہوار کی بھی اجازت دی گئی جس میں تقریبا40ہزار خاندانوں نے شرکت کی(حوالہ سابقہ 1/2/2020)۔

2) چینی عہدہ داروں نے 31 دسمبرتک اس بحران کے خطرات کو عوام سے پوشیدہ رکھا، تب چین نے عالمی ادارہ صحت کو اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ "مرض سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا ممکن ہے"۔ 23 جنوری کو چینی حکومت نے ووھان شہر میں لاک ڈاؤن کیا اور سفر پر مکمل پابندی لگا دی(مصراوی 23/3/2020)...

**دوسرا مرحلہ :قرنطینہ اور جزوی طور پر الگ تھلگ کرنا...

1) امریکی محکمہ صحت کے عہدہ دار نے ہفتے کے دن کہا کہ آٹھواں شخص نئے کرونا وائرس کا شکار ہوگیاہے، امریکی وزارتِ دفاع نے کہا کہ باہر سے آنے والے جن لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنا ہوا انہیں پناہ گاہیں فراہم کریں گے...... چین کے وسط میں ووھان اور ھوبی جہاں وائرس منظرعام پر آیا عملی طور پر قرنطینہ میں ہیں(سکائی نیوز 2/2/2020)

2) امریکہ میں نیویارک کے گورنر اندروکومو نے کہا کہ "ہم قرنطینہ میں ہیں" اورتاکیداً کہا "ہوسکتا ہے کہ ہم اس سے زیادہ سخت اقدامات اٹھائیں " نیویارک، کیلیفورنیا اور نیوجرسی کے بعدIllinoisمیں لاک ڈاؤن کی حالت میں 85 ملین افراد گھروں تک محدود ہیں، جن کو صرف محدود چہل قدمی اور شاپنگ کا استثنیٰ ہے...... (Deutsche Willi-21مارچ 2020)

*گھروں میں قریباً مکمل علیحدگی....

دنیا میں سینکڑوں ملین اشخاص اس امید سے گھروں میں روکے گئے ہیں کہ شاید کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن ہو جس کی وجہ سے گیارہ ہزار لوگ مرچکے۔ انسانی تاریخ میں کبھی اس قسم کے سخت اقدامات نہیں اٹھائے گئےجو اس وقت مختلف ممالک میں مختلف انداز سے اٹھائے گئے ہیں ... 800 ملین سے زیادہ لوگ 30 سے زیادہ ممالک میں گھروں میں محبوس ہیں خواہ یہ عام حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ہو یا گھومنے پھرنے پر پابندی کی وجہ سے(فرانس پریس).... جرمنی میں حکومت نے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے اور زندگی کو مقید کرکے بیشتر لوگوں کو گھروں میں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے.... اٹلی جو یورپ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 4ہزار لوگ مرچکے ہیں، بوڑھے براعظم میں پہلا ملک ہے جس نے اپنے شہریوں کو گھروں میں محبوس کردیا تاکہ کرونا وبا کے پھیلاؤکے روک تھام سے متعلق اقدامات کو مزید سخت کیا جاسکے ،اب ہفتے کے آخری دنوں کی چھٹیوں میں تمام پارکس اور سیرگاہوں کو بند کرکے اٹلی اپنے لوگوں کوان کے گھروں میں قید کرنے کے اقدامات کر رہاہے، چوبیس گھنٹے کے اندر627 افراد کے ہلاک ہونے اور بحران کے انتہا پر پہنچنے کے بعدحکومت نے یہ اقدامات کیے ہیں(Deutsche Willi 21/3/2020)

ان تینوں حل پرغورکرنے سے معلوم ہوتاہے یہ مسئلے کو حل نہیں کرتے بلکہ یہ معاشی ناکامی میں مزید اضافہ کرکے ایک اور ناکامی کا سبب بنتے ہیں جس سے یہ مرض بھی دوچند ہوگا اور لوگ مزید بیماریوں کا شکار بھی ہوں گے جیسا کہ ہم سرمایہ دارانہ معاشرے کے حالات کے بارے میں سُن رہے ہیں... اس لیے اس مرض کادرست علاج وہی ہے جو اللہ کی شریعت میں آیا ہے کہ ریاست ابتدا میں ہی اس مرض کا پیچھا کرتی ہے اور مرض کو اسی جگہ تک محدود رکھنے کے لیے کام کرتی ہے جہاں وہ پیدا ہوا ہو ،اور دوسرے علاقوں میں تندرست لوگ کام اور پیداوار کوبڑھانے کو جاری رکھیں.... بخاری نے اپنے صحیح میں اُسامہ بن زید سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ«إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا»"جب تم کسی زمین میں طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگر وہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم ہو تو وہاں سے مت نکلو" بخاری اور مسلم میں ایک اور حدیث ہے ،مسلم کے الفاظ ہیں کہ اُسامہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَاراً مِنْهُ»"طاعون  ایک عذاب ہے جسے بنی اسرائیل یاتم سے پہلے لوگوں پر نازل کیا گیا، اگر تم کسی زمین میں اس کے پھیلنے کا سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگروہ کسی ایسی زمین میں پھیل جائے جہاں تم ہو،تو وہاں سے مت نکلو" بخاری میں عائشہ رضی اللہ عنھاسے روایت ہے کہسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي «أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِراً مُحْتَسِباً يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیاگیا تو آپ نے مجھے بتایا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے جس پر اللہ چاہتاہے اس کو نازل کرتاہے مگر اللہ نے مومنوں کے لیے اس کو رحمت بنایا ہے اور جو بھی کسی ایسی زمین میں ہو جہاں یہ پھیل جائے اور وہ صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے یہ جانتے ہوئے وہاں ٹھہرارہے کہ اس کے ساتھ وہی ہوگا جو اللہ نے لکھا ہے، تو اسے شہید کا اجر ملے گا"۔

اس قسم کا قرنطینہ اس ریاست میں تھا کہ جو تمام ریاستوں میں سب سے آگے تھی اور جس کی تہذیب سب سے اعلیٰ تھی، جس کے سربراہ رسول اللہ ﷺ کی عطا کردہ وحی کے ذریعےحکمرانی کررہے تھے۔ ابنِ حجر نے فتح الباری میں ذکرکیا ہے کہ عمر ؓبن خطاب شام کے سفر کےلیے نکلے ،جب سرغ میں پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ شام میں وبا پھیل گئی ہے۔ عبد الرحمن بن عوفؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ«إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»"جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ کسی زمیں میں وبا پھیل گئی ہے تووہاں مت جاؤ اور اگر کسی ایسی زمین میں وبا پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے بھاگ مت نکلو" ۔ عمر ؓواپس ہوگئے… یعنی جب آپؓ کو خبر ملی کہ طاعون پھیل گیا ہے تووہ مسلمانوں کو لے کر واپس ہوگئے۔ اس لیے اسلامی ریاست وبا کو اس کے پیدائش کی جگہ محدود کرنے کی کوشش کرے گی، اس علاقے کے لوگ وہیں رہیں گے، دوسرے علاقے کے لوگ وہاں نہیں جائیں گے... اور ریاست ایک نگہبان اور امانت دار ریاست کے طور پر اپنی شرعی ذمہ داری ادا کرے گی۔ وبا پھیلنے کی صورت میں تمام رعایا کو صحت اور علاج معالجے کی تمام سہولیات مفت فراہم کرے گی، ہسپتال اور لیبارٹریوں کا بندوبست کرے گی،شہریوں کی بنیادی ضروریات اورتعلیم و امن وامان کا بندوبست کرے گی... مریضوں کو تندرست لوگوں سے الگ رکھنےکے لیے مریضوں کو قرنطینہ کرے گی، تندرست لوگوں کو اپنے کام جاری رکھنے، اجتماعی اقتصادی سرگرمیاں حسبِ سابق جاری رکھنے کی اجازت دے گی، تمام لوگوں کو گھروں میں بند کر کے معاشی زندگی کو مفلوج کرکے بحران کو بڑھا کر مشکلات میں اضافہ نہیں کرے گی...

تیسرا: تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر کرونا مرض کے اثرات:

اس وباء کے بغیر بھی عالمی معیشت کساد کا شکار تھی... ایسے حالات میں دنیا میں لاک ڈاؤن ، کلی اور جزوی محبوسی کے اقدامات کیسے کیے جاسکتے ہیں؟ یہ اقدامات اگر عالمی معیشت کونہ بھی گرائیں مگر اس کو مزید سست روی سے دوچار کردیں گے۔وائرس نے عالمی تجارتی سرگرمی کو مفلوج کردیا ہے اور تیل کی قیمتوں کوگرادیاہے۔ تیل کی قیمتیں کم ہونے اور روس کی جانب سے پیداوار بڑھانے پر مجبور ہونے سے اس کے اور سعودی عرب کے درمیان قیمتوں کی جنگ شروع ہوگئی ہے کیونکہ روس تیل پر زیادہ انحصار کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب کو روس کے مقابلے میں پیداوار میں اضافے کےلیے متحرک کیا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے19مارچ 2020 کو یہ کہتے ہوئے روس کو دھمکی دی کہ"وہ مناسب وقت پر روس اور سعودی عر ب کے درمیان قیمتوں کی جنگ میں مداخلت کرے گا..." (امریکی ٹی وی الحرۃ، 19مارچ 2020) ۔ سعودی عرب روس کے ساتھ امریکہ کے مارکیٹ شئیر کی جنگ لڑ رہاہے۔ روس اور سعودی عرب کے درمیان پیداوار کم رکھنے کامعاہدہ تین سال جاری رہنے کے بعد ٹوٹ گیا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب عالمی منڈی میں تیل کی طلب کم ہونے سےدونوں ممالک مسائل کا شکار ہیں۔ تیل کی قیمتیں 20سال کی کم ترین سطح پر ہیں ۔ آنے والے معاہدوں کے لیے میکس برنٹ کی قیمت75. 28ڈالر ہے۔ روس سعودیہ کے امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑکو جانتاہے چنانچہ روسی روسنف کمپنی کے ترجمان میخائیل لیونیف نے روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ"کئی بار اوپیک پلس معاہدے کو جاری رکھنے کےلیے تیل کی پیداوار میں کمی کی گئی مگر بہت سرعت سے عالمی مارکیٹ میں اس کی جگہ امریکی شیل آئل کو لایا گیا" (رائٹرز، 18مارچ 2020) ۔ مگر وہ اس حوالے سے کسی قسم کے اقدامات نہ کرسکے پس سعودیہ نے بحران کا رخ روس کی طرف کردیا یوں 1، 2ملین بیریل کمی کرنے کے معاہدے کو جاری نہ رکھا جاسکا بلکہ پیداوار میں اضافہ کیا گیا، جس سے پیر کے دن تیل نے اپنی ایک تہائی قیمت کھودی جوکہ 1991کےخلیج جنگ کے بعد سب سے زیادہ خسارہ ہے.... یوں آنے والے معاہدوں کے لیے خام برنٹ کم ہوکر05. 31سے کم ہو کر 02. 31 پرفی بیرل آگیا، اس سے قبل31٪سے02. 31٪کم ہواتھا جوکہ 2010 کے بعد کم ترین سطح ہے(رائیٹرز19مارچ 2020) پھر اس نے اپنے ایشیائی گاہکوں کے لیے قیمت میں 6ڈالر کمی کی، اب روس اوپیک پلس معاہدے کی طرف دوبارہ لوٹنے کی کوشش کر رہاہے اور مزید کمی کے لیے نرمی دکھا رہاہے۔

یوں کرونا وائرس نے عالمی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا ہے جس سے تیل کی قیمتیں گرگئیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطرہ ہے عالمی معیشت زمین بوس ہوجائے گی...

چوتھا: کیا مساجد میں جمعہ اور جماعت کی نماز ترک کرناجائز ہے؟

وبا پھیلنے کی وجہ سے عمومی طور پر باجماعت نمازاور نمازِ جمعہ کو ترک نہیں کیا جاسکتا بلکہ صرف مریضوں کو الگ کر کےجماعت اور جمعہ کی نماز کے لیے انہیں مسجد آنے سے روکا جائے ، اگر ضرورت پڑے توصفائی ،جراثیم کشیاور ماسک کابندوبست کیا جائے... مگر تندرست لوگ بلا تعطل اپنی نماز جاری رکھیں ، اگر مشتبہ مریضوں کی چیک اَپ کی ضرورت ہو تو مساجد کے گیٹ پر طبی عملہ تعینات کیا جائے یعنی تندرست لوگوں کی نماز میں خلل کے بغیر مریضوں کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں کیونکہ جمعہ اور باجماعت نماز کے دلائل نماز کو مستقل طور پرمعطل کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور جیسا ہم بیان کریں گے کہ ان کی ادائیگی کے لیے بہت بڑی تعداد کی بھی ضرورت نہیں،بعض مسلمانوں کو وجوہات کی بنا پر رخصت ہے ،اس کی وضاحت درج ذیل ہے:

باجماعت نماز فرضِ کفایہ ہے، لوگوں پر اس کا اہتمام فرض ہے ۔ابوداؤد نے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدْ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ، عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْخُذُ الذِّئْبُ مِنَ الْغَنَمِ الْقَاصِيَةَ»"جس علاقے یا بستی میں تین آدمی ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہوگا ۔(مسلمانوں کی)جماعت کو لازم پکڑو ،بھیڑیا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری کو لے جاتاہے" اس حدیث کوابوداؤد نے حسن اسناد سے روایت کیا ہے۔ یہ باجماعت نماز کے بارے میں ہے اور یہ فرض کفایہ ہے کیونکہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جماعت کی نماز نہیں پڑھی تو آپ نے ان کے گھروں کو جلانے کا ارادہ ظاہر کرکے پھر چھوڑ دیا۔ بخاری نے ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقاً سَمِيناً أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ» "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میری جان ہے، میرا دل کرتا ہے کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور لکڑیاں جمع کی جائیں پھر نماز کا حکم دوں اور اس کے لیے آذان دی جائے پھر کسی آدمی کولوگوں کی امامت کا حکم دوں اور میں جماعت میں نہ آنے والوں کے گھروں کو جا کر آگ لگادوں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر كسى كو معلوم ہو جائے كہ اسے موٹى سے گوشت والى ہڈى حاصل ہو گى، يا پھر اسے اچھے سے دو پائے كے كھر حاصل ہونگے تو وہ عشاء كى نماز ميں حاضر ہوں گے"۔ اگر جماعت فرضِ عین ہوتی تو آپ ﷺ انہیں نہ چھوڑتے۔ یہ باجماعت نمازکے بارے میں ہے کیونکہ اس میں عشاء کی جماعت کا ذکر ہے۔ جماعت کم سے کم ایک مقتدی اور امام کے ساتھ ہوتی ہے، جیسا کہ مالک بن حویرث سے روایت ہے کہ"«أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَمَّا أَرَدْنَا الْإِقْفَالَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَنَا إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا» میں اور میرا ایک ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جب جانے لگے توآپ ﷺ نے فرمایا جب نماز کا وقت ہو تو آذان دینا،پھرایک اقامت کرے اورجو بڑا ہے وہ امامت کرے" اسےمسلم نےروایت کیا ہے۔ شرعی عذر کے بغیر جماعت ساقط نہیں ہوتی جیسا کہ رات کی تاریکی اور بارش کا ذکر بخاری  میں ہے کہكَانَ يَأْمُرُ مُؤَذِّناً يُؤَذِّنُ ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِهِ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ أَوْ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَر "سخت سردی کی رات میں یا سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن سے کہتے آذان دو، وہ آذان دیتا، اس کے بعد اعلان کرتا کہ اپنے ٹھکانوں پر ہی نماز پڑھ لو"۔

اور جہاں تک جمعہ کی نماز کا تعلق ہے ،تو وہ فرضِ عین(ہر مسلمان پر فرض ) ہے جو صرف شرعی عذر سے ہی ساقط ہوسکتی ہے اس کے دلائل بہت ہیں، اللہ کا یہ ارشاد: ﴿إِذَا نُودِي لِلصَّلاَةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾ " جب جمعہ کے دن نماز کے لیے آذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور تجارت ترک کردو"۔ اس آیت میں امر وجوب کےلیے ہے جس کی دلیل یہ قرینہ ہے کہ یہاں مباح (تجارت)سے منع کیا جا رہا ہے ،پس یہ طلب حتمی طلب ہے۔ حاکم نے المستدرک علی الصحیحین میں طارق بن شہاب سے پھر ابوموسیٰ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ«الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةٌ: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ»" جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ایک واجب حق ہے ،سوائے چار افراد کے غلام، عورت، بچہ اور مریض "۔اور امام حاکم نے بیان کیا کہ یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم)کی شرط پر صحیح ہے۔ یہ خوف زدہ پر بھی فرض نہیں جیسا کہ ابنِ عباسؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا:«مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إلَّا مِنْ عُذْرٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ» "جوشخص آذان سنے اور اس کا جواب نہ دے تو اس کی نماز نہیں سوائے عذر کے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول عذر کیا ہے؟ فرمایا خوف یا مرض" اس کو بیھقی نے سنن الکبریٰ میں روایت کیا ہے۔ اس لیے جمعہ ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے اس کے جس کا عذر نص میں وارد ہے اور اسی کو استثنیٰ حاصل ہے... ان کے علاوہ سب پر جمعہ فرضِ عین ہے صرف مذکورہ عذر شرعی عذر ہیں۔ ان پر کسی اور عذر کو قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ شرعی عذر وہ ہوتاہے جو شرعی نص میں وارد ہو اور عبادات میں قیاس نہیں ہوتاکیونکہ عبادات میں علت والی نصوص ہی نہیں ہیں اس لیے قیاس بھی نہیں...

جمعہ کی نماز کے لیے شرط ہے کہ اس میں مسلمانوں کی تعدادہو مگر یہ تعداد متعین نہیں ، صحابہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ جمعہ کی نماز میں تعداد کا ہونا لازمی ہے، پس ضروری ہے کہ اس میں تعداد ہو۔ اس میں کسی متعین عدد کی شرط نہیں ، پس کوئی بھی تعداد جس پر جماعت کا اطلاق ہو اس کے ساتھ جمعہ کی نماز ہو جائے گی جب تک کہ وہ جماعت سمجھی جائے۔ چونکہ جماعت کا ہونا طارق سے مروی سابقہ حدیث سے ثابت ہے «الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ»"جمعہ حق اور ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ فرض ہے" اور چونکہ تعداد کا ہونا اجماعِ صحابہؓ سے ثابت ہے اور کوئی ایسی حدیث نہیں جو کسی متعین تعدادپر دلالت کرتی ہو، جبکہ جماعت اور تعداد کا ہونا ضروری ہے ، پس یہ تین یا تین سےزیادہ سے ہی حاصل ہو سکتی ہےکیونکہ دو کو تعداد والی جماعت نہیں کہاجاتا، اس لیے لازمی ہے کہ جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے تین یا اس سے زیادہ لوگ ہوں، چنانچہ تین سے کم افراد کا جمعہ پڑھنا درست نہیں نہ ہی اسے جمعہ کہاجائے گا،تعداد کے عدم وجود کی وجہ سے۔ جمعہ کے لیے تعداد ہونے پر صحابہ کا اجماع ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ریاستِ خلافت جمعہ یاجماعت کی نماز کو معطل نہیں کرے گی بلکہ صرف شرعی طور پرمعذور افراد شریک نہیں ہوں گے، باقی لوگ جماعت میں شریک ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ اگر غالب گمان ہو کہ سبھی لوگ وبا کا شکار ہو جائیں گے اور تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود اس سے بچنا ممکن ہی نہیں...تو اس کا امکان بہت کم ہے ،خاص طورپر جبکہ جماعت کے لیے کم از کم تعداد دو ہے اور جمعہ کے لیے تین ہے اور اسے حاصل کرنا غالب طور پرممکن ہے ، تو اگرکسی علاقے میں یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ایسی صورتِ حال ہے تو اسی ترتیب کو اختیار کیا جائے ۔ اور حکم کو تمام تر کوشش اور ذمہ دار ی کے ساتھ برقرار رکھنا لازم ہے ۔ اگر تعداد کو حاصل کرنے کا غالب گمان ہو تو جماعت اور جمعہ کو معطل نہیں کیا جائے بلکہ تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ، اور فرض کو ترک کرنے سے بچا جائے اور اسے احتیاطوں اور تدابیر کے ساتھ قائم کیا جائے تاکہ بیماری ایک سے دوسرے کو نہ لگے۔

اس مسئلے میں یہ راجح حکم ہے، اس لیے حکمران اگر مذکورہ غالب گمان کے بارے میں پوری تحقیق کیے بغیر مساجد کو بند کریں، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا اور لوگوں کو جمعہ اور جماعت سے روکیں تو وہ باجماعت نماز اور جمعہ کو معطل کرنے پر سخت گنہگار ہوں گے.

آخر میں یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ عالم اسلام کے حکمران استعماری کفار کے نقش قدم پر چلتےہوئے خُو بہ خو ان کی نقالی کرتے ہیں، وہ وباکے علاج کے لیے اپنی اختیار کردہ تدابیر کے نتیجے میں مسئلوں کا شکار ہوں توتب بھی یہ ان کی پیروی کرتے ہیں، وہ کوئی حل پیش کریں تو یہ مسلم ممالک میں ان کی تعریفیں کرتے ہیں اور اسے صحت بخش سمجھتے ہیں، اگرچہ ان کے اپنے حالات اس سے مختلف ہوں ۔ افسوس کہ کرونا وبا کے دوران عالم اسلام میں ملک اور لوگوں کو منجمد کرکے رکھ دیا گیا ، یہاں تک کہ عوامی زندگی رک گئی ۔ حالانکہ عالم اسلام پر اس سے سخت حالات گزرے۔ 18 ہجری میں اس وقت شام میں طاعون کی وبا پھیل گئی جب مسلمان روم کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے۔ اسی طرح چھٹی صدی ہجری میں شام سے مراکش تک وبا پھیل گئی جس کو آج کل بیکٹیریا کی ایک قسم سے پھیلنے والی وبا کہا جاتا ہے، آٹھویں صدی ہجری کے وسط (749ھ)میں دمشق طاعون اعظم کا شکار ہوا، مگر مذکورہ تمام حالات میں کبھی مساجد بند نہیں کی گئیں، نہ ہی جمعہ اور با جماعت نماز روک دی گئی، نہ کبھی لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے بلکہ مریضوں کو علیحدہ کیاگیا، تندرست لوگوں نے کام کاج جاری رکھا،بلکہ جہاد بھی نہیں روکا، وہ مساجد میں اللہ کے سامنے گڑگڑاتے اور اس مصیبت سے بچاؤ کے لیے اللہ کو پکارتے ، اور اس کے ساتھ علاج معالجے پر بھرپور توجہ دیتے اورمریضوں کی بہترین دیکھ بھال کرتے۔ یہی حق بات ہے۔

﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ﴾"اور حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے"

کرنسی نوٹوں کے ذریعے بھی کورونا پھیلنے کا خطرہ لیکن اس سے نجات کیسے پا سکتے ہیں؟ وہ طریقہ جو آپ کو کسی بھی خطرے سے بچائے

پاکستانی طبی ماہرین نے کہا ہے ملکی یا غیر ملکی کرنسی نوٹوں کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے یہ ضروری ہوچکا ہے۔ نوٹوں کوجیب یا لاکرمیں رکھنے سے پہلے گرم استری کے ساتھ اچھی طرح پریس کیا جائے۔ٹی وی پروگرام میں شامل متعدد ڈاکٹروں نے کہا موجودہ صورتحال میں یہ عمل ہر شہری کو سرانجام دینا چاہیے۔کوشش کی جائے کہ وصول کیے جانیوالے کرنسی نوٹوں کو کاغذ کے کسی لفافے میں رکھ کرجیب میں رکھا جائے اور موقع ملتے ہی ان کو گرم استری سے پریس کرلیا جائے۔طبی ماہرین کے مطابق دکانداروں کو گاہگ سے ملنے والے نوٹوں کو گننے کے عمل کے دوران ماسک پہننا چاہیے اور گنتی ختم ہوتے ہی اپنے ہاتھ سینی ٹائزر سے صاف کرنے چاہئیں۔ایک سوال پر ماہرین کا کہنا تھابینکوں میں نصب اے ٹی ایم مشین کو استعمال کرنے کے بعد بھی ہاتھوں کو سینی ٹائزر سے فوراً صاف کرنا چاہیے کیونکہ ان مشینوں کی سکرین اور بٹنوں کو ہر طرح کا صارف استعمال کرتاہے ۔

کووڈ-19 سے متعلق چند بنیادی سوالات اور ان کے جواب

دنیا میں جیسے جیسے کووِڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے عام
آدمی کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں نت نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
مارچ کی 26 تاریخ تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک چار لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے اب تک 21 ہزار 300 سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
جیسا کہ یہ وائرس کھانسی کے ذریعہ انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ الکوحل سے بنے ہینڈ سینیٹائزر یا گرم پانی اور صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرے کو بار بار چھونے سے اجتناب کریں۔
اس کے علاوہ، آپ کو کسی بھی ایسے شخص سے رابطے سے گریز کرنا چاہیے جسے کھانسی، زکام یا بخار کے شکایت ہو۔ جو بھی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہے اسے فوراً اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔
بی بی سی نیوز کی ہیلتھ ٹیم نے اس وبا کے متعلق قارئین کے مختلف بنیادی سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

ایک ہفتہ قبل میری سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہوگئی، کیا یہ کورونا وائرس کی علامت ہے؟

برطانیہ میں ناک، کان اور گلے کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے نوٹس میں آیا ہے کہ سونگھنے کی حس کے ختم ہونے یعنی اینوسمیا کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ سوشل میڈیا پر سونگھنے اور ذائقے کی حس سے محرومی کی شکایت کی رہے ہیں اور کچھ کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ مگر اب تک اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں اور عمومی نزلہ زکام کی وجہ سے بھی سونگھنے یا ذائقے کی حس یا دونوں عارضی طور پر ختم ہوجاتی ہیں۔

میں خطرے کی زد میں موجود شخص ہوں اور میری نگہداشت کے لیے نرس کو آنے کی ضرورت ہے، کیا وہ میرے گھر آ سکتے ہیں؟

اگر آپ کو انتہائی ضروری نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے تو یہ ایسی صورتحال میں جاری رہ سکتی ہے جب اس شخص میں کورونا وائرس کی علامات نہ ہوں۔
آپ کے گھر آنے والے کسی بھی شخص کو آپ کے گھر میں داخل ہونے اور آپ کے گھر سے جانے سے پہلے اور اس دوران بار بار 20 سیکنڈ تک اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے دھونے چاہییں۔ اس کے علاوہ انھیں آپ سے دو میٹر یعنی 6 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔
یہ بھی اہم ہے کہ ایسے متبادل افراد موجود ہوں جو آپ کے نرس کے بیمار پڑنے پر آپ کی نگہداشت کر سکیں۔

اگر کسی میں کووِڈ-19 کی علامات پیدا ہوجائیں تو گھر میں موجود کسی حاملہ خاتون کو خود ساختہ تنہائی سے متعلق کیا اقدام کرنا چاہیے؟

اگر آپ کے گھر میں کسی کے اندر کورونا وائرس کی علامات پیدا ہوجائیں تو برطانوی حکومت کی ہدایت ہے کہ خطرے کی زد میں موجود لوگ یعنی حاملہ خواتین یا 70 سال سے زائد عمر کے افراد ہوسکے تو 14 دن کے لیے خود کو تنہا کر لیں۔
اگر یہ ممکن نہ ہو تو علامات کے حامل شخص سے جتنا دور ہو سکے اتنا دور رہیں۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ کیا کورونا وائرس کی وجہ سے حاملہ خواتین اور ان کے بچے زیادہ خطرے کے شکار ہیں، لیکن حکام نے زور دیا ہے کہ انھیں اس حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

کیا کورونا وائرس پالتو کتوں اور بلیوں کے بالوں پر زندہ رہ سکتا ہے اور وہاں سے دوسرے لوگوں کو لگ سکتا ہے؟

کورونا وائرس کا خطرہ نہ بھی ہو تب بھی آپ کو پالتو جانوروں پر ہاتھ پھیرنے یا انھیں سنبھالنے کے بعد اپنے ہاتھ اچھی طرح دھونے چاہییں۔ اور جہاں یہ مانا جا رہا ہے کہ کووِڈ 19 ابتدائی طور پر انسانوں میں جانوروں کے ذریعے آیا تھا، یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ ایسا کیسے ہوا، اور اب تک ایسی کوئی مثال نہیں جس میں انسانوں کو یہ اپنے پالتو جانوروں کے ذریعے لگا ہو۔
جانوروں کی صحت کی عالمی تنظیم (او آئی ای) کا کہنا ہے کہ بظاہر پالتو جانور وائرس پھیلانے کا سبب نہیں ہیں، مگر اس حوالے سے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں کہ کیا جانوروں پر یہ اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر ہوتا ہے تو کس طرح۔
او آئی ای کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کووِڈ-19 کے شکار ہیں یا اس بیماری کی وجہ سے زیرِ علاج ہیں، انھیں پالتو جانوروں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے اور کسی دوسرے شخص سے کہنا چاہیے کہ وہ انھیں سنبھال لے۔ اور اگر انھیں یہ خود ہی کرنا ہو تو صفائی کا خیال رکھنا چاہیے اور چہرے پر ماسک پہننا چاہیے

کورونا وائرس کی نگہداشت کا دورانیہ کتنا ہے؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں عموماً پانچ دن لگ جاتے ہیںلیکن کچھ لوگوں میں یہ علامات بہت دیر میں بھی ظاہر ہوئیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کی نگہداشت کا دورانیہ 14 دن تک کا ہے لیکن بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہوسکتا ہے۔۔
نگہداشت کے دورانیے کے بارے میں علم ہونا اور اسے سمجھنا بہت اہم ہے۔ اس کی مدد سے ڈاکٹرز اور صحت کے حکام کو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقے تلاش کرنے میں مدد ملی ہے۔

کیا کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کا مطلب ہے کہ اس سے بچ گئے؟

یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ اس وائرس سے انسانوں کا واسطہ ابھی گذشتہ دسمبر سے پڑا ہے لیکن ماضی میں دوسرے وائرسز اور کورونا وائرس کی اقسام کے ساتھ ہونے والے تجربات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو آپ کے اندر آپ ایسی اینٹی باڈیز ہونی چاہیئں جو آپ کو اس وائرس سے پچا سکیں۔
سارس اور دوسرے کورونا وائرس میں دوبارے انفیکشن دیکھنے میں نہیں آیا۔ چین سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ہسپتال سے خارج کیے جانے والے افراد میں دوبارہ مثبت ٹیسٹ آئے ہیں لیکن ہم ان ٹیسٹس کے بارے مںی بھی پر یقین نہیں۔

کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد معمولی سے درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کی ایک مخصوص تعداد ایسی ہے جن میں بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے اور مریض ہلاک ہو جاتا ہے

کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد معمولی سے درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کی ایک مخصوص تعداد ایسی ہے جن میں بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے اور مریض ہلاک ہو جاتا ہے۔
امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔
اسے خون کا روبصحت سیال یا کونویلیسینٹ پلازمہ کہا جاتا ہے۔ کورونا سے ہونے والی معتدی بیماری کووِڈ۔19 کی صورت میں معروف امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام ایف ڈے اے یعنی دی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے رواں ماہ کی 24 تاریخ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں ڈاکٹروں کو کورونا کے شدید علیل یا زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے مریضوں کے لیے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کے استعمال کی اجازت دی۔ تاہم ہر انفرادی مریض میں استعمال سے قبل پیشگی اجازت لینا ضروری قرار دیا ہے۔
ایف ڈی اے کے مطابق یہ ایک تحقیقاتی طریقہ علاج ہے اور اس تک رسائی کی مشروط اجازت امریکہ میں تیزی سے بڑھتے کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی طبی صورتحال کے پیشِ نظر دی گئی ہے۔
پاکستان میں بھی طبی ماہرین اس طریقہ علاج کے استعمال کی تجویز حکومت کو دے چکے ہیں۔ ان میں کراچی میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیذیذز کے ڈین اور امراض خون کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی بھی شامل ہیں جو حال ہی میں اس تجویز کو سامنے لائے تھے۔
ان کا استدلال ہے کہ چین میں ڈاکٹروں نے کورونا کے مریضوں پر اس طریقہ کار کا استعمال کیا ہے اور اس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جنھیں انھوں نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کے لیے شائع بھی کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ 'اس طریقہ علاج اور اس کے استعمال کے حوالے سے ایک نمونہ حکومت کے پاس جمع کروایا جا چکا ہے، انھوں نے دیکھ لیا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ وہ یہ کریں گے

کورونا وائرس: کیا ماسک پہننے سے وائرس کی منتقلی سے بچا جا سکتا ہے

کسی بھی وائرس کے پھیلنے کے بعد سب سے زیادہ نظر آنے والی تصاویر ڈاکٹروں والے ماسک پہنے لوگوں کی دکھائی دیتی ہیں۔
انفیکشن سے بچنے کے لیے ایسے نقاب یا ماسک کا استعمال دنیا کے بہت سے ممالک میں مقبول ہے۔ خاص طور پر چین میں کورونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے دوران ان کا استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ ایسے ہی ماسک چین میں بڑے پیمانے پر پائی جانے والی فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے بھی پہنے جاتے ہیں۔


تاہم ماہرین فضا سے پھیلنے والے وائرس سے بچاؤ میں 
ماسک کے پراثر ہونے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیںلیکن کچھ ایسے شواہد ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسک وائرس کی ہاتھوں سے منہ تک منتقلی روکنے میں مددگار سرجیکل ماسک 18ویں صدی میں ہسپتالوں میں متعارف کروائے گئے مگر عوامی سطح پر ان کا استعمال 1919 میں اس ہسپانوی فلو سے قبل سامنے نہیں آیا جو پانچ کروڑ افراد کی ہلاکت کی وجہ بنا تھا۔
برطانیہ کی سینٹ جارج یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر ڈیوڈ کیرنگٹن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ 'عام استعمال کے سرجیکل ماسک فضا میں موجود وائرس یا بیکٹیریا سے بچاؤ کے لیے بہت پراثر ثابت نہیں ہوئے اور زیادہ تر وائرس اسی طریقے سے پھیلے تھے۔ ان کی ناکامی کی وجہ ان کا ڈھیلا ہونا، ہوا کی صفائی کے فلٹر کی عدم موجودگی اور آنکھوں کے بچاؤ کا کوئی انتظام نہ ہونا تھا۔'
لیکن یہ ماسک کھانسی یا چھینک کی رطوبت میں موجود وائرس سے بچاؤ اور ہاتھ سے منہ تک وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتے سنہ 2016 میں نیو ساؤتھ ویلز میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ لوگ ایک گھنٹے میں تقریباً 23 مرتبہ اپنے منہ کو ہاتھ لگاتے ہیں۔
پروفیسر جوناتھن بال یونیورسٹی آف ناٹنگھم میں مالیکیولر وائرالوجی کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ایک ہسپتال کے ماحول میں کی جانے والی محدود تحقیق یا کنٹرولڈ سٹڈی میں فیس ماسک بھی انفلوئنزا کے انفیکشن سے بچاؤ میں اتنا ہی اچھا رہا جتنا اس مقصد کے لیے بنایا جانے والا سانس لینے والا مخصوص آلہ تھا۔‘
سانس لینے کے لیے بنایا جانے والے اس آلے میں ہوا کو صاف کرنے کے لیے فلٹر لگا ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر اس طریقے سے بنایا جاتا ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر فضا میں موجود خطرناک ذرات سے بچنے میں مدد مل سکے۔
پروفیسر بال مزید کہتے ہیں ’بہرحال جب آپ عمومی سطح پر عوام میں ماسک کے فائدے سے متعلق کی گئی تحقیقات کو دیکھتے ہیں تو اعداد وشمار اتنے مثاثرکن نظر نہیں آتے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماسک کو طویل وقت تک استعمال کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کونوربیمفرڈ بیلفاسٹ کی کوئینز یونیورسٹی میں تجرباتی ادویات کے انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں صفائی سے متعلق سادہ سی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت زیادہ سودمند ہے۔
وہ کہتے ہیں ’جب چھینک آئے تو منہ ڈھکنا، ہاتھ دھونا اور ہاتھ دھونے سے پہلے انھیں منہ پر نہ لگانا ایسے اقدامات ہیں جو سانس کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ ‘
برطانیہ کے قومی ادرۂ صحت کا کہنا ہے کہ فلو پیدا کرنے والے وائرس وغیرہ سے بچنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے:
  • ہاتھوں کو گرم پانی اور صابن سے باقاعدگی سے دھویا جائے۔
  • جتنا بھی ممکن ہو اپنی آنکھوں اور ناک کو چھونے سے گریز کریں۔
۔ ہو سکتے ہیں۔

کورونا وائرس سے اپنے موبائل فون کو کیسے محفوظ رکھنا ہے

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار موبائل فون بھی ہوسکتا ہے جس کے لیے موبائل فون کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کیلیے چند احتیاطیی تدابیر کو اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔
دنیا بھر میں 3 لاکھ کے لگ بھگ افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور 10 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی وجہ بننے والا کورونا وائرس، موبائل فون کے ذریعے بآسانی انسانی جلد تک پہنچ سکتا ہے اور کان ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔
جراثیم کش وائپس سے موبائل فون کی صفائی
موبائل فون کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں تو اس وائرس سے بچا سکتا ہے۔  موبائل فون کو صاف کرنے کے لیے ہمیشہ جراثیم کُش وائپس استعمال کیے جائیں جو مارکیٹ میں بآسانی اور ارزاں قیمت پر دستیاب ہیں۔
 
نرم اور مائیکرو فائبر کپڑے سے صفائی کریں
معروف موبائل کمپنی بھی اپنے صارفین کو موبائل کی صفائی کیلیے نرم اور مائیکرو فائبر سے تیار کپڑے کا ٹکڑا استعمال
کرنے کی تجویز کرتی ہے۔ لینن کا کپڑا کبھی استعمال نہ کریں۔
موبائل سینی ٹائزر کا استعمال
موبائل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موبائل اسکرین اور باڈی کی صفائی کے لیے سینی ٹائزر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور کئی موبائل سینی ٹائزرز مارکیٹ میں دستیاب ہیں جب کہ حالیہ وبا کے بعد سینی ٹائزر کے ساتھ کٹ بھی دستیاب ہے جس میں صفائی کیلیے خصوصی کپڑا بھی موجود ہے۔
ٹشو پیپرز سے بار بار صاف کریں
ہر بار موبائل فون استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر سے فون کو اچھی طرح صاف کرلیا جائے اور ٹشو کو پھینک دیا جائے۔ اس کے علاوہ موبائل فون کو مشتبہ مریضوں کے حوالے نہ کیا جائے

کورونا وائرس مختلف سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے

جیسے جیسے کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی ہے، ہمارا سرفیسز یعنی کسی بھی چیز کی سطح جیسے کہ ٹیبل یا دروازے کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔
اب عوامی مقامات پر بہت سے مناظر عام ہو گئے ہیں جیسے کہ لوگوں کا دروازے اپنی کہنیوں سے کھولنے کی کوشش کرنا، ٹرین کا سفر کرتے ہوئے کسی ہینڈل کو نہ پکڑنا، دفاتر میں ہر روز ملازمین کا اپنی میزوں کو صاف کرنا۔
جن علاقوں میں کورونا کا بہت اثر پڑا ہے وہاں پر تو حکام عمارتوں، پارکس، اور گلیوں میں جراثیم کش ادویات کچھ شہروں میں تو کچھ رضا کار رات کے وقت جا جا کر اے ٹی ایم مشینوں کے کی پیڈ صاف کرتے ہیں۔
بہت سارے ریسپیریٹری یعنی سانس کے نظام پر اثر انداز ہونے والے وائرسز کی طرح کورونا وائرس ان چھوٹے چھوٹے قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے جو کسی کھانسنے والے کے منہ اور ناک سے خارج ہوتے ہیں۔
ایک کھانسی میں 3000 تک ایسے قطرے آ سکتے ہیں۔ رہے 
میں جو ذرات ہوتے ہیں وہ کسی سطح، یا کسی کے کپڑوں پر گرتے ہیں اور کچھ ہوا میں ہی رہتے ہیں۔
اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ یہ وائرس انسانی اخراج میں بھی موجود ہوتا ہے اسی لیے جو لوگ بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھ صحیح سے نہیں دھوتے وہ جس چیز کو ہاتھ لگائیں اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
امریکہ میں سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ کسی ایسی جگہ پر ہاتھ لگانا جہاں یہ وائرس ہو اور پھر اسی ہاتھ کو اپنے چہرے پر لگانا اس وائرس کے پھیلاؤ کا مرکزی طریقہ نہیں ہے۔

ہاتھ دھونا

اس کے باوجود سی ڈی سی اور عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او کا اسرار ہے کہ ہاتھ دھونے اور سطح کو بار بار صاف کرنا اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم ترین اقدام ہےزیادہ درجہ حرارت اور زیادہ نمی میں بھی کورونا وائرسز جلدی مر جاتے ہیں۔
درجہِ حرارت اور نمی کے تناسب کا بھی اس میں عمل دخل ہے کہ یہ وائرس کتنی دیر تک انسانی جسم کے باہر زندہ رہ سکتا ہے۔ وینسنٹ منسٹر کہتے ہیں کہ ابھی ہم ان دونوں عناصر کے بارے میں زیادہ تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ جانیں کہ ان کا وائرس پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے انسانی جسم سے باہر اتنی دیر تک زندہ رہنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہاتھ دھونے اور سرفیسز کو صاف کرنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

کورونا وائرس اور مذہب


کورونا وائرس ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے، جس سے دنیا کے 166 سے زائد ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ آج کی تاریخ تک ایک لاکھ 87 ہزار لوگ دنیا
بھر میں اس سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 8 ہزار اموات ہوئی ہیں۔ متاثرین میں سے 80 ہزار سے زائد صحتیاب ہوچکے ہیں اور کچھ صحتیابی کے مراحل میں ہیں۔ لہٰذا اگر دیکھا جائے تو اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد تقریباً 2 سے 3 فیصد ہے

اس وائرس سے زیادہ خطرناک صورتحال سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے، جہاں ہر دوسرا فرد ماہر امور طب بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب، اسی سوشل میڈیا پر دو طبقوں میں انتہائی زہریلی بحث نے بھی جنم لیا ہے کہ وائرس نے دنیا بھر کے عبادت خانے بند کرادیے ہیں ۔
بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں ایک بات تو بالکل واضح کرلیجئے کہ کوئی بھی مذہب تحقیق اور سائنس سے بالکل بھی منع نہیں کرتا، بلکہ ہمارا مذہب اسلام تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سیرت نبویؐ میں بھی اس کا درس موجود ہے اور قرآن میں تو جابجا سوچ و بچار کی دعوت دی گئی ہے۔ بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ قرآن کا جو اثر پڑھا لکھا انسان لیتا ہے، وہ عام انسان نہیں لیتا۔ لہٰذا ایک وائرس کی آڑ میں دنیا بھر کے مذاہب اور بالخصوص اسلام کو نشانہ بنانا کہاں کی دانشمندی ہے؟
اگر خانہ کعبہ بند ہے اور وہاں عام افراد نہیں جاسکتے تو شاپنگ مالز بھی بند ہیں۔ اگر دیوار گریہ بند ہے تو بار بھی بند ہیں۔ اگر ویٹی کن سٹی ویران ہے تو پب اور ڈسکوز بھی تو بند ہیں۔ تو صرف مذہب کو تاک کر نشانہ بنانا کہاں کی دلیل ہے؟
میں مسلمان ہوں اور میں نے سیرت نبویؐ میں رسول اللہؐ کو احتیاط کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ کیا جنگوں میں نبیؐ خود نہیں پہنتے تھے؟ کیا رسولؐ نے پہلے 313 افراد اکٹھے کیے، جنگی حکمت عملی تیار کی اور پھر دعا نہیں کی؟ اسلام عمل اور دعا کو ساتھ لے کر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اس وائرس کے تدراک کےلیے اینٹی ڈاٹ اور ویکسین پر تحقیق ہورہی ہے۔ ظاہر ہے اس تحقیق میں سب ہی مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ شاید وہ بھی شامل ہوں گے جن کا کوئی بھی مذہب نہیں ہوگا۔ لیکن ایک بات جو تادم تحریر ہے کہ ابھی تک علاج دریافت نہیں ہوا۔ کیوں؟ کیونکہ ابھی میرے اللہ کا ’’کُن‘‘ نہیں ہوا۔ ابھی شاید اللہ پاک بھی انسان کو تحقیق کے میدان میں مزید دوڑانا چاہ رہے ہیں۔ جو لوگ تحقیق کرتے ہیں وہی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک سمندر ہے جس میں غوطہ زن ہو کر اس موضوع کی بابت نئی سے نئی چیزیں اور باتیں سامنے آتی ہیں اور نتائج اور علاج کی دریافت تک پہنچتے پہنچتے ایک دفتر قائم ہوچکا ہوتا ہے جو مستقبل میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
ساتھ میں یہ بھی عرض ہے کہ چین نے اس وائر س کو وبا کے ساتھ امریکا کی جانب سے کیا جانے والا بائیولوجیکل حملہ بھی قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ووہان بھی یہ وائرس امریکی فوجی ساتھ لائے تھے اور انہوں نے اس کو فضا میں چھوڑا تھا۔ اس تھیوری میں بھی دم ہوسکتا ہے کیونکہ چین ایک معاشی طاقت بنتا جارہا تھا اور کسی بھی طرح سے رکنے میں نہیں آرہا تھا۔ حتیٰ کہ صدر ٹرمپ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں چین کو سبق سکھانے کی بات بھی کی تھی۔ اس ایک وائرس نے دنیا بھر کی مارکیٹس کو تباہ کردیا ہے اور مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے۔
فی الوقت حقیقت دیکھیں تو پاکستان میں صرف سندھ میں اس وائرس کو لے کر سنجیدہ کام ہورہا ہے، جبکہ باقی پورے پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس وقت صرف احتیاط کی جاسکتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے طریقوں پر عمل کیا جاسکتا ہے اور بطور مسلمان مجھے عرض کرنے دیجئے کہ یہ وبائی وقت توبہ و استغفار اور رجوع اللہ کا بھی ہے۔ اللہ کے حضور عاجزی کے ساتھ یہ عرض کرنے کا ہے کہ ’’اے میرے اللہ، تیرے حبیبؐ کا قول سچا ہے کہ کوئی بھی مرض اس کی دوا کے بغیر اس کرۂ ارض پر نہیں آتا۔ مالک ہم ایک وبا کا شکار ہیں، علاج کی دریافت جن کا کام ہے، وہ کر رہے ہیں، تو ان کےلیے آسانیاں پیدا کر کہ وہ جلد ڈھونڈ کر تیرے بندوں کو مرنے سے بچالیں۔ تو ’کُن‘ کہہ دے اور ’فیکون‘ ہوجائے۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ (آمین)‘‘۔





کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر ایبوپروفن اور پیراسیٹامول کا استعمال خطرناک یا کارآمد

انٹرنیٹ پر ایسی خبریں شیئر کی جا رہی ہیں کہ اگر کورونا وائرس کا شکار ایک شخص ایبوپروفن کا استعمال

کرتا ہے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں صحت سے متعلق بعض تدابیر کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں لیکن کئی مرتبہ ایسی غلط معلومات بھی سامنے آتی ہے جس میں حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحت کے ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایبوپروفن تجویز نہیں کی جاتی۔ وہ لوگ جو کسی اور وجہ سے ایبوپروفن کا استعمال کرتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسا کرنے سے پہلے کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
عام طور پر گھروں میں دستیاب یہ ادویات ایبوپروفن اور پیراسیٹامول دونوں فلو جیسی علامات کی صورت میں جسمانی درجہ حرارت کم کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
لیکن ایبوپروفن سمیت دوسری ادویات جو درد سے نجات دلاتی ہیں (یعنی این ایس اے آئی ڈی) ہر کسی کے لیے موزوں ثابت نہیں ہوتیں اور ان سے مضر اثرات یا سائیڈ ایفیکٹس ہوسکتے ہیں۔ اس لیے دمے، دل یا خون کی گردش سے متعلق بیماریوں کے شکار افراد کے لیے ان ادویات کی تجویز نہیں کی جاتی
برطانیہ میں قومی ادارۂ صحت، نیشنل ہیلتھ سروس یا این ایچ ایس کی جانب سے ماضی میں ایبوپروفن اور پیراسیٹامول کے استعمال کی تجویز دی جاتی تھی۔
لیکن اب اس کے ساتھ یہ طبی مشورا دیا جاتا ہے کہ ’اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد نہیں کہ ایبوپروفن سے کورونا وائرس (کووڈ 19) مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔۔۔‘
’جب تک ہمارے پاس مزید معلومات نہیں آتیں، آپ کورونا وائرس کی علامات کے علاج کے لیے پیراسیٹامول استعمال کر سکتے ہیں، سوائے اگر ڈاکٹر نے آپ سے کہا ہے کہ پیراسیٹامول آپ کے لیے موزوں نہیں۔‘
این ایچ ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ کسی ڈاکٹر کے مشورے پر ایبوپروفن استعمال کر رہے ہیں انھیں رجوع کیے بغیر اس کا استعمال روکنا نہیں چاہیے
لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر شارلٹ ویرن گیش کے مطابق ہمیں یہ معلوم نہیں کہ کورونا وائرس کی شدت یا اس بیماری کی مدت پر ایبوپروفن کا کیا مخصوص اثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر خطرے کی زد میں مریضوں سے متعلق یہ تجویز ’بہتر ہوسکتی ہے کہ وہ پیراسیٹامول کو اپنی پہلی ترجیح سمجھ کر استعمال کریں۔‘
کچھ ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن میں سانس لینے سے متعلق انفیکشن کی صورت میں ایبوپروفن کو طبیت زیادہ خراب ہونے سے جوڑا جاتا ہے۔

غلط معلومات

لیکن تجویز کوئی بھی ہو، انٹرنیٹ پر غلط معلومات اب بھی پھیل رہی ہے۔ واٹس ایپ پر ایسے جھوٹے پیغامات پھیل رہے ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ:
  • کارک (آئرلینڈ کے شہر) میں چار نوجوان آئی سی یو میں ہیں جن کی طبیت پہلے خراب نہیں تھی۔ یہ چاروں درد سے نجات دینے والی ادویات استعمال کر رہے تھے اور یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کی وجہ سے ان کی طبیت مزید خراب ہوگئی (غلط)
  • یونیورسٹی آف ویانا نے اپنے پیغام میں لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات ہونے پر ایبوپروفن نہ کھائیں ’کیونکہ یہ دریافت ہوا ہے کہ اس سے کورونا وائرس کووڈ 19 جسم میں تیزی سے اپنی افزائش کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اٹلی میں لوگ خراب صورتحال سے دوچار ہیں اور یہ بیماری پھیل رہی ہے” (غلط)
  • ’فرانس میں ٹولوس یونیورسٹی ہسپتال میں (نوجوانوں میں) کورونا وائرس کے چار کیسز آئے ہیں جن کی حالت تشویش ناک ہے لیکن انھیں صحت کے مسائل نہیں تھے۔ ان سب میں جب علامات ظاہر ہوئیں تو انھوں نے ایبوپروفن جیسی درد سے نجات دلانے والی ادویات کا استعمال کیا‘ (غلط)
واٹس ایپ پر پھیلائے گئے پیغامات اب انسٹاگرام سمیت دیگر جگہوں پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔
عام طور پر ایسے پیغامات، جنھیں کاپی پیسٹ کیا گیا ہو، کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انھیں بھیجنے والا شخص کسی کا جاننے والا ہے جو طب کے شعبے سے وابستہ ہے۔

یہ تمام دعوے غلط ہیں

آئرلینڈ میں وبائی امراض کی تنظیم نے کہا ہے کہ واٹس ایپ پر ’کارک میں کورونا وائرس کے مریضوں سے متعلق پیغام جھوٹ پر مبنی ہے۔‘
ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے پیغامات کو ’نظر انداز کرتے ہوئے انھیں ڈیلیٹ کر دیں۔‘
ٹولوس یونیورسٹی ہسپتال نے متنبہ کیا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر غلط معلومات پھیل رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ طبی رازداری کی خلاف ورزی ہوگی۔

ہم ایبوپروفن اور کووڈ 19 کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

ایبوپروفن اور عالمی وبا کورونا وائرس کووڈ 19 کے بارے میں اب تک کوئی ریسرچ نہیں ہوئی۔
لیکن نظام تنفس کے انفیکشنز پر متعدد تحقیق ہوئی ہیں جن میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ایبوپروفن کا استعمال کرنے سے مزید پیچیدگیاں اور طبیت خراب ہوسکتی ہے۔ تاہم یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن کے پروفیسر پال لیٹل کے مطابق ہمیں یہ معلوم نہیں کہ آیا اس کی وجہ خود ایبوپروفن ہے۔
کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایبوپروفن کی درد سے نجات دلانے کی خاصیت جسم کی قوتِ مدافعت کے ردعمل کو ’کمزور‘ بناتی ہے۔
یورنیورسٹی آف ریڈنگ کی پروفیسر پراستو ڈونائی کہتے ہیں کہ: ’کئی مرتبہ ایسی تحقیق سامنے آچکی ہے جس میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ نظام تنفس کے انفیکشن کی حالت میں ایبوپروفن کا استعمال مزید بیمار کر سکتا ہے یا دوسری پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
لیکن وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ایسے سائنسی شواہد نہیں دیکھے جن میں یہ صاف ظاہر ہوا ہو کہ ایک 25 سالہ صحت مند شخص نے کووڈ 19 کی علامات پر ایبوپروفن کا استعمال کیا ہو اور ایسا کرنے سے خود کو اضافی پیچیدگیوں کے خطرے میں ڈالا ہو۔‘
ایک بیان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ 'ایبوپروفن کا استعمال نہ کرنے کی تجویز نہیں دیتے۔' 'کورونا وائرس میں بخار کی صورت میں لوگ ایبوپروفن استعمال کرتے ہیں اور ڈبلیو ایچ او اس کے استعمال کے حوالے سے موجود خدشات سے آگاہ ہے۔'
'ہم ان ڈاکٹروں سے بات چیت کر رہے ہیں جو مریضوں کا علاج کر رہے ہیں اور ایسی اطلاعات سے واقف نہیں کہ اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہوں، سوائے وہ اثرات جن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو اس کا استعمال محدود کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔'