معروف تجزیہ نگار حسن نثار نے تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے پر اپنے آپ کو گالیاں
دے دیں۔نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ میرے تو ماتھے پر لکھا ہے کہ میں الو کا پٹھا ہوں۔ میرے جیسا تو احمق اور بیوقوف کوئی نہیں۔۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں مایوسی پھیلاتا ہوں، میرے جیسا تو کوءاحمق امید پرست تھا ہی کوئی نہیں۔ جس نے تیسری قوت کے خواب دیکھے، مجھے کہا گیا کہ یہ خوابوں کی آدمی ہے۔حسن نثار کا کہنا تھا کہ میں بے نظیر اور نوازشریف کے بارے میں کہتا تھا کہ ایک چھرا ہے، دوسری چھری ہے، ایک کھڈا ہے تو دوسری کھائی ہے۔ ان سے امیدیں تھیں، ہاتھوں سے لگائی گئی گانٹھیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔حسن نثار نے تحریک انصاف سے متعلق کہا کہ یہ پہلی بار اقتدار دیکھ رہے ہیں، اگر یہ دوچار دولتیاں مارتے ہیں تو کوئی بات نہیں ہے۔ مجھے کرکٹ کا کیا پتہ؟ مجھے عمران خان کے بارے میں اتنا پتہ ہے کہ یہ پاپولر آدمی ہے۔I am a very open minded person, ready to face new challenge, especially when it comes to technology. People consider me to be a social, temperamental person who doesn't hesitate in giving my opinion for what I think and believe in, honest and respectfully. I am self made and always willing to do new things.
پب جی کھیلتے کھیلتے نوجوان نے خودکشی کرلی
"کل سے ہم یہ اہم کام کرنے جا رہے ہیں"، وزیراعظم
Tomorrow we will partially open airspace for intl flights.This is being done specially to help our Overseas workers who have suffered most in this pandemic but have shown great courage & made us proud. We welcome you back home & our govt will facilitate you in every way.
اپنے دوسرے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ "وباء کےہنگام سمندرپار بسنے والی پاکستانی کمیونٹی نےبیرون ملک مقیم اپنےبہن بھائیوں کی مددکیلئےجس بےلوث سخاوت کامظاہرہ کیاوہ لائقِ تحسین ہے۔بہت سی ایسی مثالیں دستیاب ہیں جن سےیہ صاف ظاہرہےکہ ضرورت مندافراد کا ہاتھ تھامنےکےحوالےسے پاکستانی کمیونٹی کیسےمتاثر کن طرزِ عمل کا وسیلہ بنی۔"۔I appreciate the philanthropic role played by the Overseas Pakistani community in helping their brothers & sisters abroad during Covid19. There are many examples where the Pakistani community has been a source of inspiration, helping those around in need.
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری
اس نظام کے تحت شہریوں کو لمبی کاغذی کارروائی کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا نہ ہی لمبی لمبی قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔ صرف شناختی کارڈ اور بینک میں بھری گئی فیس کا چالان پیش کرکے ہی ڈرائیونگ لائسنس بنوایاجاسکے گا۔صارفین کو شناختی کارڈ اور بینک چالان کے علاوہ کسی قسم کے دستاویزات جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے طویل ترین قطار میں لگنا پڑتا تھا اور انہیں تصویر بنوانے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کروانے کے لیے بھی کافی انتظار کرنا پڑتا تھا، اس کے علاوہ انہیں دیگر دستاویزات بھی پیش کرنا ہوتی تھیں۔
دنیا بھر میں کورونا متاثرین کے لیے بڑی خوشخبری ،کورونا وائرس سے زندگیا ں بچانے والی پہلی دوائی سامنے آگئی ،برطانوی سائنسدانوں کو اہم کامیابی مل گئی
انتہائی سستی اور با آسانی دستیاب دوائی ”dexamethasone“کورونا وائرس سے بری طرح متاثر افراد کی جان بچا سکتی ہے ۔برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے سٹیرائڈسے علاج نے اہم کام کیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوائی کورونا وائرس کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے والے مریضوں کی موت کے خطرے کو ایک تہائی فیصد کم کر دیتی ہے ۔یہ دوائی کورونا وائرس کے بیماری بگڑنے کے باعث آکسیجن لینے والے ہر پانچویں مریض کو ٹھیک کر رہی ہے ۔ریسرچرز کا اندازہ ہے کہ اگر کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے آغاز میں یہ دوائی برطانیہ میں مریضوں کو ٹھیک کرنے کے لیے دی جاتی توپانچ ہزار زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں ۔
اس دوائی کے کم قیمت ہونے کی وجہ سے یہ ان غریب ممالک میں بھی با آسانی دستیاب ہو سکتی ہے جہاں لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہیں ۔”dexamethasone “انجیکشن میں بھی دیا جا سکتا ہے جبکہ روز ایک ٹیبلٹ بھی کھائی جا سکتی ہے ۔یہ سٹرائڈ جسم میں اس مادے کو نکلنے سے روکتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل ہونے جیسی بری علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔یہ سٹرائڈ 1957میں دریافت ہوا تھا جو کہ الرجی سمیت مختلف قسم کی بیماریوں کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے ۔
لندن میں وزیراعظم عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماوں کی جائیدادیں نکل آئیں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے دھماکہ خیز انکشاف کردیا
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ انہیں شہزاد اکبر کے اس دعوے کہ برطانیہ میں کسی کی بھی جائیداد سرچ انجن 192.کام کے ذریعے تلاش کی جاسکتی ہے سے ایک اشارہ ملا۔ڈان کے مطابق انہوں نے بتایا کہ سرچ انجن کو کچھ معروف شخصیات کی جائیدادیں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا گیاجس کے تنائج کے مطابق برطانیہ میں عمران خان کی جائیدادیں 6، شہزاد اکبر کی 5 ، سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی ایک، ذوالفقار بخاری کی 7، عثمان ڈار کی 3، جہانگیر ترین کی ایک اور پرویز مشرف کی 2 جائیدادیں ہیں۔
جج کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد معروف عوامی شخصیات ہیں اور انکم ٹیکس، فارن ایکسچینج یا منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ میں غیر قانونی جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔ انکم ٹیکس قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو اپنا ریکارڈ چیک کرنا چاہیئے اور دیکھنا چاہیئے کہ کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر ہے اور ان شخصیات نے کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔
دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کوخدا حافظ، طارق عزیز بھی چل بسے
طارق عزیز کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انہیں گلے میں تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا مگر وہ جانبر نہیں ہوسکے۔پاکستان کے معروف میزبان اور انتہائی نفیس شخصیت طارق عزیز نے ریڈیو سے کیریئر شروع کیا جبکہ 1974 میں نیلام گھر شو کا آغاز کیاوہ پی ٹی وی کے پہلے اینکر ہونے کا بھی اعزاز رکھتے تھے۔انہیں ان کے پروگرام نیلام گھر سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔نہوں نے متعدد فلموں میں بھی کام کیا جبکہ فنی خدمات پر انہیں 1992 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
طارق عزیز 1997 سے 1999 تک رکن قومی اسمبلی بھی رہے۔
کیا اس بار حج نہیں ہوگا؟ عرب میڈیا کی پریشان کن رپورٹ سامنے آگئی
حج کااجتماع دنیا کے عظیم ترین اجتماعات میں سے ایک ہے جس مٰیں دنیا بھر سے تقریب بیس لاکھ افراد سعودی عرب پہنچتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مارچ میں جب کورونا وائرس کا پھیلاو بڑھنے لگا تو سعودی عرب نے تمام ممالک کو کہا تھا کہ وہ حج پلان پر ابھی توقف کریں جبکہ عمرہ پر پابندی عائد کردی گئی۔
رائٹرز کے مطابق چند سعودی حکام کا خیال ہے کہ اس سال حج کو منسوخ کردیا جائے، رائٹرز کے مطابق دو اعلیٰ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ چند افراد کو حج کی اجازت دینے کی بات چیت بھی چل رہی ہے جس کے تحت عمررسیدہ افراد پر پابندی اور سخت طبی احتیاطی تدابیر اپنائی جاسکیں اور اگر سخت ترین ہدایات جاری کی گئیں تو سعودی عرب کا خیال ہے کہ اس کے ساتھ کل گنجائش کے صرف بیس فیصد کو حج کی اجازت دی جائے۔
خیال رہے موجودہ صورتحال میں مسلمانوں کی بڑی آبادی والا ملک انڈونیشیا نے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے جب کہ ملائشیا نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارت کی حج کمیٹی کا بھی کہنا ہے کہ رواں سال حج کی ادائیگی کے امکانات بہت کم ہیں۔
کورونا وائرس کہاں سے آیا؟ ناروے نے بھی بہت بڑا دعویٰ کر دیا
ناروے اور برطانوی سائنسدان نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی نہیں بلکہ لیبارٹری میں بنایا گیا ہے۔گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے دنیا میں پھیلنے والے مہلک کورونا وائرس سے 4 لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 71 لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔مہلک وائرس سے نہ صرف دنیا بھر میں معاشی، سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سرگرمیاں رک گئی ہیں بلکہ سیاحت سمیت کئی انڈسٹریز کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے چین پر الزام لگایا گیا ہے کہ مہلک وائرس چین کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے تاہم چین نے ہمیشہ ہی الزام کی تردید کی ہے۔اب ناروے اور برطانیہ کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی نہیں ہے بلکہ اسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ناروے کے برجر سورینسن اور برطانوی پرفیسر اینگس ڈلگلیش نے یہ دعویٰ برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی 6 کے سابق سربراہ سر رچرڈ ڈیئرلو کی معاونت سے ہونی والی ایک تحقیق میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی جھلی ایسے تیز نوک دار پروٹین سے بنی ہے جو مصنوعی طور پر داخل کیے گئے ہیں جب کہ تحقیق میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسانی جسم میں دریافت ہونے کے بعد سے کورونا میں بہت کم تبدیلی دیکھی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پہلے ہی انسانوں کے لیے ڈھالا گیا ہے۔
سورینسن کے مطابق کورونا کی خصوصیات سارس سے بہت زیادہ مختلف ہیں جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ چین ا ور امریکا نے کورونا وائرس پر کئی عرصے تک مشترکہ تحقیق کی ہے جس میں وائرس کے بڑھنے، پھیلنے اور منتقلی کی صلاحیت سے متعلق مطالعہ کیا گیا۔برطانوی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سر ڈیئرلو کا کہنا تھا کہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کو مفلوج کرنے والا وائرس لیب میں بنایا گیا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تجربے کے دوران یہ وائرس ناقص انتظامات کے باعث نکل گیا ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ متعدد اداروں نے یہ تحقیق چین کی ناراضی کے خدشے کے پیش نظر شائع کرنے سے معذرت کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں پھیلی وبا کا الزام چین پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کا تعلق ووہان کی لیبارٹری سے ہے۔دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی اور سائنسدان کہتے ہیں کہ کورونا وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہوا اور اس کا تعلق چین کے شہر ووہان کی لیب سے نہیں ہے۔
اسلام آباد میں کرونا خطرناک حد تک پھیل گیا،کون سے 9 مقامات کو سیل کر دیا گیا ؟تفصیلات آگئیں
لاہور ہائیکورٹ نے شہبازشریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا
ہائیکورٹ نے شہبازشریف کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 17 جون تک عبوری ضمانت فراہم کر دی ہے اور پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم
جاری کر دیاہے ۔عدالت میں پوچھا کہ گیا شہبازشریف کہاں ہیں ، وکیل نے عدالت میں بتایا کہ وہ کمرہ عدالت میں ہی موجود ہیں اس کے بعد عدالت عالیہ نے نیب سے پوچھا کہ آپ انہیں کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں ؟ نیب نے بتایا کہ شہبازشریف کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہاہے ۔جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔عدالت نے استفسار کیاکہ درخواست گزارشہبازشریف کہاں ہیں ؟،شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ شہبازشریف کینسرکے مریض اورکمرہ عدالت میں موجود ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو گرفتاری کا خدشہ ہےوکیل شہبازشریف نے کہاکہ نیب کوریکارڈ دے دیا پھربھی گرفتاری کیلئے بے تاب ہے ،شہبازشریف کو 5 اکتوبر 2018 کوصاف پانی کیس میں بلایا گیا،دوران ریمانڈ شہبازشریف کورمضان شوگر ملز کیس میں بھی گرفتارکرلیاگیا،نیب 63 دن کے ریمانڈ میں تفتیش کرتی رہی۔عدالت نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس کس سٹیج پر ہے،وکیل درخواستگزارنے کہاکہ شہبازشریف کیخلاف کیس انویسٹی گیشن کی سٹیج پرہے،عدالت نے کہاکہ نیب والے کہاں ہیں ،روسٹرم پرآئیں ،عدالت نے استفسارکیاکہ کیانیب شہبازشریف کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتاہے؟،نیب وکیل نے کہاکہ نیب شہبازشریف کی ضمانت کی مخالفت کرے گا،شہبازشریف کی طلبی 2 جون،وارنٹ گرفتاری 28 مئی کے تھے،عدالت نے کہاکہ جب وارنٹ پہلے نکلے تو 2 جون کوکیوں بلایا ؟،وکیل نیب نے کہاکہ جب گرفتاری کاموادآیا تب شہبازشریف کے وارنٹ جاری کیے،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعدشہبازشریف کی 17 جون تک عبوری ضمانت منظور کرلی اورنیب کوشہبازشریف کی گرفتاری سے روک دیا،عدالت نے شہبازشریف کو 5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانےکاحکم دیدیا۔یاد رہے کہ نیب کی ٹیم گزشتہ روز سے شہبازشریف کا پیچھا کر رہی ہے لیکن گرفتاری میں کامیاب نہیں ہو سکی ،نیب کی ٹیم نے شہبازشریف کے گھر پر چھاپہ بھی مارا لیکن وہ نہیں ملے جبکہ آج صبح بھی نیب نے ہائیکورٹ کے باہر گھیرواﺅ کر رکھا تھا کہ انہیں پیشی سے قبل گرفتار کیاجائے تاہم آج بھی شہبازشریف ڈرامائی انداز میں عدالت میں پہنچے ۔
افغانستان سے ایک اور پریشان کن خبر آگئی
یہ پریشان کن خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آج ہی دارالحکومت کابل سے بم دھماکے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ افغانستان میں ایک نجی ٹی وی چینل کی گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے اس پر سوار ایک افغان صحافی اور منی بس کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا جبکہ گاڑی میں سوار چار دیگر افراد زخمی ہوگئے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چینل کے نیوز ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ افغان دارالحکومت کابل میں پیش آیا۔












