کلورین اور الکوحل کا اسپرے کوروناوائرس ختم نہیں کرسکتا“ عالمی ادارہ صحت نے حیران کن اعلان کر دیا

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کلورین و الکوحل کا اسپرے کورونا ختم نہیں کرسکتا، گرم
پانی سے نہانے سے بھی کورونا نہیں روکا جاسکتا، دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے 9 افریقی ممالک میں غذائی بحران دگنا ہوجائیگا۔عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر صاف الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ کلورین اور الکوحل کا اسپرے کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں کرسکتا، وائرس کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے پر انسانی ہاتھ سے ختم ہوسکتا ہے، لہٰذا کلورین اور الکوحل کے محلول چھڑکنے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا کہ فائیوجی موبائل نیٹ ورک کورونا کے پھیلا کا سبب نہیں بن سکتا، 25 سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر کا درجہ حرارت کسی بھی طرح کورونا وائرس کو ختم نہیں کرسکتا، ایک بار کورونا وائرس سے صحت مند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتے، بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے،10سیکنڈ تک سانس روکنے اور خشک کھانسی نہ ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ آپ کورونا سے محفوظ ہیں، الکوحل کا زیادہ استعمال آپ کوکورونا سے محفوظ رکھنے کا سبب نہیں بن سکتا۔کورونا وائرس گرم اور نمی والے علاقوں میں بھی لوگوں میں انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے، سرد موسم اور برفیلے علاقوں میں کورونا میں بھی کورونا وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے۔گرم پانی سے نہانے سے بھی کورونا کو نہیں روکا جاسکتا، کورونا وائرس مچھروں کے ذریعے بھی منتقل نہیں ہوسکتا۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس پھیلنے والے علاقوں خاص کر لاطینی امریکا میں اشیا کی سپلائی بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروازوں کو توسیع دی جائے۔عالمی ادارہ صحت کے چیف آپریشنز پاؤل مولینارو کا کہناتھا کہ اپریل میں عالمی سطح پر اپریل میں ویکسین کی فراہمی میں تعطل آیا ہے اور اگر یہ مئی میں بھی جاری رہا تو دیگر بیماریوں کے خلاف مہم متاثر ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو ورلڈ فوڈ پروگرام کو خوراک کی سپلائی میں پہلی مرتبہ رکاوٹ کی رپورٹ ملی ہے جو مزید گمبھیر ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمرشل پروازوں میں ہم زیادہ پیش کش کے خواہاں ہوتے ہیں اور ہم مسلسل اپیل کررہے ہیں۔

زبان کا سینیٹائزر کب ایجاد ہو گا ؟

کورونا وائرس چین سے شروع ہوا  اور پھر دنیا بھر میں پھیل گیا ۔ اس جان لیوا وائرس
سے  ایک لاکھ سے زائد افراد اپنی  جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔
کورونا وائرس سے بچائو کے لئے ہمیں  بہت سی حفاظتی تدابیر بھی معلوم ہوئیں  جیسا کہ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا  ، ننزلہ زکام اور کھانسی کی صورت میں  سماجی دوری اختیار کر لینا ، گھروں پر رہنا  اور سب سے بڑھ کر  ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال ۔یعنی ہاتھوں کو بار بار دھونا ، اگرچہ کہ ہمارے دین میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اور بار بار ہاتھ دھونے کی تلقین کی گئی ہے ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ  اس وائرس کے  تیزی سے پھیلائو  کے بعد ہم ہاتھ بار بار دھونے کی ہدایت پر عمل کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔اتنا خوف ہمیں اپنے خدا کا نہیں ، اپنے معبود کا نہیں  جتنا ڈر ہمیں کورونا کا ہے ۔ کورونا سے بچائو کے لئے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال  میڈیا پر بار بارہاتھ دھونے کی ہدایات جاری ہونے کے بعد بڑھتا گیا ۔
اس بات سے قطع نظر کہ  کون کون سے ہینڈ سینیٹائزر معیاری قرار دئیے گئے اور کن کو ناکارہ اور نقصان دہ قرار دیا گیا ۔ اس بات کو بھی بھول جائیں  کہ کن کن کمپنیوں کو فائدہ ہوا اور کن کو ٹھیکے ملے ۔ بات صرف یہ ہے  کہ اب رمضان  الکریم  کا بھی آغاز ہو گیا ۔کورونا کے نام پر راشن کی تقسیم کے حوالے سے بہت بے ضابطیگیاں  بھی ہوئیں  اور یہ کھاتہ اب لمبا چلنے والا ہے لہذا اسکو بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔۔ آج موضوع یہ ہے کہ ہم ظاہری حسن کی تو بہت پروا کرتے ہیں ، آرائش و زیبائش کی اشیا کا استعمال کرتے ہیں ، ہاتھوں کی صفائی ستھرائی کا بھی آج کل خیال رکھ رہے ہیں ۔ لیکن زبان ہماری نہ گالیوں سے بچی ہے نہ  کوسنوں سے محفوظ ۔بلکہ رمضان کا بہانہ بنا کر سڑکوں پر لڑائیاں ہو رہی ہیں  اور ساتھ ہی ساتھ مغلظات بکی جا رہی ہیں ۔ لاک ڈائون سے لوگوں کے کاروبار بند ہو گئے ، سب کا غصہ بجا بھی ہے  ، پولیس ہے تو وہ پریشان کہ کہاں کہاں راشن تقسیم کرے اور کہاں کہاں اپنے گھر کے لئے بھی اسی راشن میں سے بچا لے ۔بڑے تاجر ہیں  تو وہ متفکر ہیں  کہ کیا کریں ، وہ اپنی زبان کی طاقت استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ  نوکریوں سے برطرفی  کا حق بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ جیلوں میں جا کر حکومت کو دھمکایا بھی جا رہا ہے ۔حکومت ابھی تک سمارٹ لاک ڈائون اور لاک ڈائون کے فیصلوں میں الجھی ہوئی ہے ، عوام کے پیسے سے ہی امدادی رقوم تقسیم کی جا رہی ہیں  اور کہا جا رہا ہے کہ واہ بھئی واہ ہماری حکومتوں کی خیر ، حکمرانوں کا اقبال بلند ہو ۔راشن تقسیم کرنے والے میڈیا کو ڈھونڈ رہے ہیں کہ چند تصویریں ہی بنوا لیں ،  میڈٰیا والے بے روزگار اور جو ہیں وہ حفاظتی لباس کی تلاش میں سرگرداں اور راشن لینے والے کئی افراد ایسے ہیں  جن کے پاس راشن کی فراوانی ہے تو وہ  اسے اٹھا کر پرچون کی دکان پر فروخت کرنے آ گئے ہیں اور مطالبہ یہ کیا جا رہا ہے کہ راشن کی جگہ انھیں  شمپئیو  ، صابن  اور دیگر لگژری آئیٹم دے دئیے جائیں ۔ان سب جگہوں پر  تلخ جملے بولنے والوں  اور دل شکنی کرنے والے افراد کی کمی نہیں ۔ سب ہی اس وبا سے پریشان ہیں لیکن  زبان کی آلودگی تو اس وائرس سے پہلے بھی موجود تھی ہے اور رہے گی ۔جو کچھ نہیں کر سکتا  وہ اپنے رتبے اور عہدے کا خیال اور اگلے بندے کا لحاظ کئے بغیر بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  سوشل میڈیا پر گالم گلوچ میں مصروف ہے کیونکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہے اور ایسے شیطان رمضان میں بھی قید نہیں ہوتے ۔
سوچنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارے دین نے تو اس شخص کو مسلمان ہی قرار نہیں دیا جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے  دوسرے مسلمان محفوظ نہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے تولو اور پھر بولو ، کیونکہ زبان کا وزن بہت ہی ہلکا ہوتا ہے لیکن اسکی ضرب بہت کاری ہوتی ہے اور بہت ہی کم لوگ یہ وزن برداشت کر پاتے ہیں ۔آج صرف یہ سوچئیے کہ  جس طرح ہاتھ دھونے کے لئے سینی ٹائزر ایجاد ہوا ہے  کیا ہم زبان کی پاکیزگی کے لئے  اسکا سینی ٹائزر خود سے نہیں بنا سکتے ، کیا ہم اپنے رویوں کو بہتر بنا کر  زبان سے لگنے والے زخموں سے دوسروں کو بچا نہیں سکتے ۔کیا ہم غیبت سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے ؟  کیا ہم طعنہ زنی سے بچ نہیں سکتے ؟ کیا ہم سوشل میڈٰیا پر تحریر کی صورت میں  گندی زبان کے استعمال کو روک نہیں سکتے ؟ یہ سب طریقہ علاج اگر ہم اختیار کریں تو یہی ہماری زبان کا سینی ٹائزر کہلائے گا ۔۔
کیونکہ زبان اگر آلودہ ہے تو اسکا یہ وائرس تو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ 

کورونا وائرس کتنے عرصے تک رہے گا؟ عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کردیا

ایک ایسے وقت میں جب دنیا لاک ڈاون میں نرمی یا اسے ختم کرنے کا سوچ رہی ہے
عالمی ادارہ صحت نے اپنے نئے خدشات کااظہارکردیاہے۔ڈبلیو ایچ او نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کووڈ 19طویل عرصے تک دنیا میں برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ کئی ممالک میں یہ ابھی تک پھیل رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت  کے سربراہ  نےجنیوا میں بریفنگ کے دوران  کہا کہ ہم نے ایمرجنسی کا اعلان صحیح وقت پر کر دیا تھا جس کا جواب دینے کے لئے ملکوں کے پاس وقت تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک میں کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں جبکہ کئی ممالک میں یہ اب بھی پھیل رہا ہے۔ گھروں پر رہنے اور سماجی فاصلوں کے احکامات پر عملدرآمد کی وجہ سے بیماری کا پھیلنا کم ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ وائرس بہت ہی خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کورونا وائرس لمبے عرصے تک رہنے کا خدشہ ہے جبکہ مختلف ممالک میں اب بھی عالمی وبا پھیل رہی ہے۔ دنیا میں اس جان لیوا بیماری میں اضافے کا رجحان تشویشناک ہے۔
اقوام  متحدہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی یا اسے ختم کرنا وائرس کے لیے دوبارہ سر اٹھانے جیسا ہو گا تاہم کچھ ممالک میں کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ فنڈنگ روکنے سے ڈبلیو ایچ او کو کورونا سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ڈبلیو ایچ او چیف نے کہا انہیں امید ہے، امریکہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں کورونا مریضوں کی تعداد چھبیس لاکھ سینتیس ہزار سے بڑھ چکی ہے اور ایک لاکھ چوراسی ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں جب کہ سات لاکھ  سترہ ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہوئے۔
یورپ پر کورونا کے وار بدستور جاری ہیں اور فرانس میں مزید پانچ سو چالیس افراد کورونا کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

رمضان کا چاند کب نظرآنے کاامکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

ماہ مقدس کی آمد آمد ہے۔ اس سلسلے مٰیں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی تیاریاں بھی زورو شور سے جاری ہیں جبکہ رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے بھی اپنی پیشگوئی جاری کردی ہے  ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ  جمعرات کو ملک کے 80 فیصد علاقوں میں مطلع صاف  رہنے کا امکان ہے جبکہ صرف شمالی علاقہ جات اور کے پی کے کچھ علاقوں میں بادل ہوسکتے ہیں۔انسانی آنکھ سے نظرآنے کے لیےچاند کی کم ازکم عمر ساڑھے 19 گھنٹے ہونا ضروری ہے تاہم جمعرات کو رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے وقت چاند کی عمرکم ہوگی۔ذرائع محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی زیادہ سے زیادہ عمر 12 گھنٹے 15 منٹ تک ہوگی اس لیے اس بات کاامکان کم ہے کہ چاند نظرآجائے۔ دوسری جانب ترجمان وزارت مذہبی امور  عمران صدیقی کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت میٹ آفس کراچی میں جمعرات کو  طلب کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق اسلام آباد کی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کوہسار کمپلیکس میں منعقد ہوگا جب کہ تمام زونل کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوں گے۔

سعودی عرب نے پاکستانی مزدوروں کو بڑی خوشخبری سنا دی

سعودی عرب نے پاکستانی مزدوروں کو 3ماہ تک تنخواہ ادا کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
میڈ یا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے نائب سعودی وزیر برائے افرادی قوت عبد اللہ بن نصیر سے ویڈیو لنک کے ذریعے رابطہ کیا اورسعودی وزیر سے پاکستانی مزدوروں سے تعاون بڑھانے اور وطن واپسی کے لیے خصوصی اقدامات کی درخواست کی۔اس موقع پر سعودی عرب نے انٹری اور ایگزٹ ویزے کی مدت بڑھانے کا اعلان کیا اور سعودی وزیر نے کہا کہ دسمبر تک پاکستانی مزدوروں کے ویزوں کی توسیع بالکل مفت ہوگی جبکہ سعودی کمپنیاں آئندہ 3 ماہ تک محنت کشوں کو ملازمت سے برطرف نہیں کریں گی۔سعودی وزیر کے مطابق تمام ملازمین کو 3 ماہ تک تنخواہ کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور برطرف ملازمین سے بھی تعاون کیا جائے گا جبکہ پاکستانی محنت کشوں کو مکمل تنخواہ اور بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔

وزیر اعظم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور نہ مجھ سے بات کی" عمران خان کو ایک کروڑ روپےعطیہ دینے والے فیصل ایدھی کا حیران کن انکشاف۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم آفس میں
ہونے والی ملاقات میں وزیر اعظم نے انہیں پہچانا ہی نہیں۔
 گفتگو کرتے ہوئے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ شروع میں تو وزیر اعظم نے انہیں پہچانا ہی نہیں ، 6 سے 7 منٹ ان کے دفتر میں بیٹھے رہے ، اس دوران وزیر اعظم نے مجھ سے بات ہی نہیں کی لیکن جب اٹھ کر جانے لگے تو ایک صنعتکار نے میرا تعارف کرایا، جس کے بعد ہماری دروازے میں ہی آدھے منٹ کی بات ہوئی ۔
فیصل ایدھی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے 2 درخواستیں کیں۔ " میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم ایدھی یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں جس کی منظوری دلوادیں۔ دوسرا میں نے ان سے کہا کہ ہم ریسکیو مقاصد کیلئے 10 سے 12 آئٹمز امپورٹ کرتے ہیں لیکن وفاقی حکومت اس پر ہم سے ٹیکس لے لیتی ہے، 2018 اور 2019 میں ہم نے ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں 10 کروڑ روپے ادا کیے ہیں۔"
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ان کی دونوں درخواستوں کے حوالے سے اپنےسیکرٹری سے کہاجس نے وہ اپنی ڈائری میں لکھ لیں۔
خیال رہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے کورونا ریلیف فنڈ کیلئے ایک کروڑ روپے بھی دیے تھے۔
وزیراعظم پاکستان نے کل مجھے پہچانا ہی نہیں کہ میں فیصل ایدھی ہوں اور عبدالستار ایدھی کا بیٹا ہوں

ایپل کا کم قیمت میں جدید فیچر سے لیس نئے آئی فون کی رونمائی

معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے سام سنگ اور دیگر موبائل فونز کے مقابلے میں کم قیمت لیکن جدید فیچرز
سے لیس آئی فون متعارف کرایا ہے جو ایپل کی ’ایس ای سیریز‘ کا نیا ورژن ہے۔ 
 ٹیکنالوجی بالخصوص موبائلز، ٹیبلیٹس، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی دنیا میں راج کرنے والی کمپنی اپیل نے اپنے صارفین کے لیے ایک نئے موبائل فون کی رونمائی کی ہے۔ اس موبائل کی قیمت انتہائی کم رکھ کر اپیل نے اپنے صارفین کی فون 
مہنگا ہونے کی شکایت دور کردی ہے۔ یہ فون 24 اپریل سے مارکیٹ میں دستیاب ہوگا
ایپل کے اس نئے موبائل کا نام ’’ آئی فون ایس ای‘‘ ہے۔ اس سیریز کا پہلا موبائل ایپل نے 2018 میں متعارف کرایا تھا جسے کافی پسندیدگی ملی تھی تاہم نیا ایس ای فون اُس سے بھی بہتر اور جدید فیچر سے لیس موبائل فون ہے۔ شکل میں آئی فون 8 جیسا اور فیچر کے لحاظ سے آئی فون 11 کی طرح ہے۔
آئی فون ایس ای کی اسکرین 4.7 انچ ہے، پروسیسر 11 پرو ہے جب کہ وائرلیس چارجنگ کی سہولت بھی ہے۔ یہ سنگل کیمرے والا موبائل ہے جس کی ریزولیشن 12 میگا پکسل ہے، اسی طرح سیلفی کیمرے کی ریزولیوشن 7 میگا پکسل ہے۔ کیمرے کا معیار بہترین ہے۔ یہ تین مختلف رنگوں میں دستیاب ہوگا۔
ایپل کے اس نئے فون کی سب سے خاص بات اس کی قیمت بھی آئی فون 8 اور 11 کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ امریکا میں اس کی قیمت صرف 399 ڈالر ہوگی۔ موبائل مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کم قیمت کا آئی فون متعارف کر کے ایپل نے سام سنگ اور گوگل جیسی کمپنیوں کے درمیانے درجے کی قیمت والے فونز کو چیلینج کیا ہے۔
واضح رہے کہ کووڈ-19 کی وجہ سے دنیا میں موبائل فونز کی مانگ میں کمی کے باوجود موبائل فونز کمپنیاں نئے ماڈل متعارف کرارہی ہیں، رواں ہفتے ہی ون پلس نے اور گزشتہ ماہ چینی کمپنی ہواوے نے پی 40 رینج کے فون کی رونمائی کی تھی۔
 ۔

وطن واپس آنے والے پاکستانی کس طرح قرنطینہ میں رہنا ہو گا اور خرچہ کون دے گا؟ وفاحکومت نے پالیسی بدل دی

وفاقی حکومت نے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے طریقہ کار میں تبدیلی
کردی۔وطن واپس آنیوالے پاکستانی 7 دن ہوٹل میں رہیں گے، خرچہ بھی خود اٹھانا ہوگا۔ روزنامہ جنگ کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی اب ائیرپورٹ سے فوری ہوٹل منتقل کیے جائیں گے جہاں انہیں 48 گھنٹے کے بجائے اب 7 روز تک ہوٹل میں رہنا ہوگا۔

کرونا وائرس ، نفسیاتی خوف کو بھی شکست دیں



 کسی علاقے میں ایک جراح رہتا تھا اور خدا نے اسکے ہاتھ میں بہت شفا بخشی تھی ، روز بہت سے

مریض اسکے پاس آتے اور شفا یاب ہو کر چلے جاتے ۔ خیر دن گذر رہے تھے اور وہاں کے اصل ڈاکٹر اور طبیب بھوکوں مر رہے تھے ۔ آخر اس مسئلےکا حل نکالنے کے لئے سب ڈاکٹر ، حکیم اور طبیب سر جوڑ کر بیٹھے تو ایک سیانے نے کہا کہ جراح کو بلا کر انسانی جسم کے بارے میں مکمل بریفنگ دے دی جائے اور اسکے بعد اسکی حالت ملاحظہ کی جائے۔خیر ایسا ہی کیا گیا ، قصہ مختصرکہ بریفنگ کے بعد اب جب کبھی بھی جراح کسی مریض کا علاج کرنے لگتا تو اسے یاد آنے لگتا کہ فلاں رگ کے کاٹنے سے جسم کا یہ حصہ ناکارہ ہو جائے گا ۔ جراح تھا تو دیسی بندہ ، یعنی دانے ہوں ، پھوڑے ہوں یا پھنسی ، اس نے چیرا لگایا ، چیر پھاڑ کی اور یہ جا وہ جا ۔۔ باقی رہا اللہ توکل ۔۔۔لیکن اب جب اسے تھوڑا سا علم ہو گیا تو علم کے ساتھ ساتھ خوف نے بھی دل میں ڈیرے ڈال لئے کیونکہ پروفیشنل نالج نہیں تھا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو کر اپنی رہی سہی قابلیت سے بھی محروم ہو گیا ۔۔یہی حال اب کرونا وائرس کے پھیلائو کے بعد کا ہے ملک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد اب دو ہزار تک پہنچ گئی اور جس طرح یہ تعداد بڑھ رہی اسی قدرخوف کے سائے بھی بڑھنے لگے ہیں ۔ بچے بڑے سب گھروں میں بند ہیں اور انتہائی معذرت کے ساتھ کوئی بھی تعمیری کاموں میں مشغول نہیں ۔ یہ وائرس ذہنی اذیت بھی پیدا کر رہا ہے ، حکومت کے بار بار کہنے کی باوجود ہم سب عجیب مخمصے کا شکار ہیں کہ ہمیں ہی کہیں کرونا نہ ہو جائے اور بسا اوقات تو یہ لگنے بھی لگتا ہے کہ کرونا ہمیں بھی خدانخواستہ ہو ہی گیا ہے ، یہ سب ذہنی خلفشار ہے مان لیا کہ سینیٹائزر کا استعمال ، باربار ہاتھ دھونا ، سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے لیکن ان سب چیزوں نے نفسیاتی خوف کو بھی جنم دیا ہے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ کرونا وائرس سے اتنا نہیں مریں گے جتنی آسانی سے لوگ خوف سے مر جائیں گے ۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاں بیس کروڑ کی آبادی کے لئے صرف ۴ بڑے نفسیاتی ہسپتال موجود ہیں ۔پاکستان میں ذہنی امراض کی شکایت کے حوالے سے ذہنی دباؤکے6فیصد، شیزو فرینیاکے 1.5فیصد اور مِرگی کے 1سے 2 فیصد افراد پائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں کروڑوں افراد کے لئے صرف چند سو ذہنی معالج موجود ہیں ۔ دنیا بھر میں ہرسال شدید ڈیپریشن کی وجہ سے ۱۰ لاکھ افراد اپنی جان لے لیتے ہیں ۔یہ ذہنی معالج پہلے ہی کام کے دبائو کا شکار ہیں ، میڈیا ہے تو ہر جگہ کرونا کرونا ، پیرا میڈیکل سٹاف اور میڈیا کے اراکین کی ذہنی حالت بھی اس موذی وبا کے دوران تشویش ناک ہو سکتی ہے ۔
یہ لوگ تو ۲۴ گھنٹے کے دوران ایک پینک کا شکار ہیں ، دوسری طرف عوام بھی ہمت ہار رہے ہیں ۔۔کہتے ہیں کہ لوگ ایسے نہیں مرتے بلکہ ڈر کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے عوام کو بہت سے حوادث کا سامنا رہا، کبھی ۲۰۰۱ کا سیلاب تھا تو کبھی آزاد کشمیر میں ۲۰۰۵ میں آنے والا زلزلہ ، کوڑھ ، ڈینگی اور اب یہ قاتل کورونا ۔لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم سب حوصلہ ہار دیں ، گھر بیٹھ کر ہائے ہائے کرنے لگیں کم ازکم میں نے ابھی تک کوئی ایسا پروگرام نہیں دیکھا جس میں عوام الناس کو نہ گھبرانے کی تلقین کی گئی ہو ، حوصلہ دلایا گیا ہو۔ ہاں البتہ ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے والے پروگراموں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ لوگوں میں اتنا خوف پیدا ہو رہا ہے کہ سماجی فاصلہ تو ہے ہی ہے دوسروں کی تکلیف میں ذہنی دوری بھی پیدا ہونے لگی ہے ۔نفسیاتی خوف جسمانی تکلیف سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ذہنی حالت میں خرابی انسان کو زندگی سے ہی مایوس کر دیتی ہے اور پھر وہ خود کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے ۔
خدارا اس ملک میں ذہنی مریض پہلے ہی بہت زیادہ ہیں ان میں اضافہ مت کریں ۔۔خدارا ہمیں ان ڈاکٹروں کی طرح بریفنگ نہ دیں جنہوں نے جراح کو بھی مشکل میں ڈال دیا ۔۔براہ مہربانی ذمہ داری کا ثبوت دیجئیے سوشل میڈیا پر جعلی طبی مشورے شئیر کرنا چھوڑ دیجئیے ۔
x

بچوں کی تعلیم کیلئے بڑا قدم، وزیر اعظم نے ٹیلی سکول چینل کا افتتاح کردیا، کلاسز کی ٹائمنگ کیا ہوگی؟

وزیراعظم عمران خان نےٹیلی سکول چینل کاافتتاح کردیا، اس چینل کے ذریعے  کورونا  لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں  محدود ہوجانے والے طلبہ کو تعلیم دی جائے گی۔وزارت تعلیم اور پی ٹی وی کے اشتراک سے شروع کیے گئے چینل پرپہلی جماعت سے لے کر 12 ویں جماعت تک صبح 8 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک کلاسز ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ مختلف دیہاتوں میں آج بھی ٹیچرزنہیں پہنچے وہاں بچے اس ٹیلی سکول چینل کے ذریعے مستفیدہوں گے، ٹیلی سکول چینل میں بہتری کیلئےحکومت جوبھی کرسکی وہ کرےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث ایسے حالات پیدا ہوئے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے ، قوم پر بڑا مشکل وقت ہے، ٹیلی سکول چینل میں جو بھی بہتری ہوئی وہ کر یں گے، ٹیلی ایجوکیشن اور ٹیلی میڈیسن کو ہم  دور دراز کے علاقوں میں پہنچا سکتے ہیں، یہ راستہ آگے بڑھنے کا ہے، موبائل فون کی وجہ سے بڑے بزرگ بھی سیکھنا چاہتے ہیں۔

عودی عرب میں مقیم ملازمین کے لیے سب سے خطرناک خبر آگئی، کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگنے والا ہے، حکومت نے اجازت دے دی


سعودی عرب میں مقیم ملازمین کو کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگنے کی تیاری۔ حکومت نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے کاروباری اداروں کو تنخواہوں اور اوقات کار میں کمی کی اجازت دے دی۔ عرب نیوز کے مطابق سعودی حکومت نے ایسے نجی کاروباری اداروں کے مالکان کو اجازت دے دی ہے کہ وہ وائرس کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر سکتے ہیں اور اوقات کار بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ اجازت سعودی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی کی طرف سے دی گئی ہے۔ وزارت کی طرف سے اس میں ایک شرط رکھی گئی ہے کہ ادارے یہ کام ملازمین کی رضامندی کے ساتھ کریں گے۔ جس ملازم کی تنخواہ جتنی کم کی جائے گی اس کی ڈیوٹی کا وقت بھی اسی تناسب سے اتنا ہی کم کیا جائے گا۔ وزارت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی ورکر کے ساتھ کوئی ناانصافی ہو تو وہ وزارت کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اس کی شکایت کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم بنانے کیلئے کیا منصوبہ بنایا اور پھر چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کیا ؟ جہانگیر ترین خان پہلی مرتبہ بول پڑے ، انکشاف کر دیا

سینئر صحافی ندیم ملک نے وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست سمجھے جانے والے اور آج کل چینی
بحران تنازع میں زیر بحث شخصیت جہانگیر ترین کا انٹرویو کیا ، جس دوران انہوں نے سوال کیا کہ آپ کی آدھی پارٹی اس وقت بہت خوش ہے ، وہ کہتے ہیں ، اچھا ہے جہانگیر ترین کو سزا ملی اور وہ فارغ ہو گیا ، اس نے پارٹی کو قابو میں کر کے رکھا ہوا تھا ؟۔
جہانگیر ترین نے سوال سننے کے بعد جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو اس کی پوری کہانی بتاتا ہوں کہ مخالفت کی بنیادی وجہ نظریے کا فرق ہے ، 2013 کے الیکشن میں ہم بری طرح ہار گئے ، دھاندلی کا شور کیا اور دھاندلی ہوئی ، چندسیٹوں پر ہوئی ۔جہانگیر ترین کی چند سیٹوں والی بات سن کر ندیم ملک تھوڑا سا چونکے اور انہوں نے دوبارہ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ” صرف چند سیٹوں پر ؟“جس پر جہانگیر ترین نے کہا کہ میری بات سن لیں ، میں کھل کر بات رہاہوں ۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد میں عمران خان کے پاس گیا اور کہا کہ ہم نے اگلا الیکشن جیتنا ہے ، جس طرح ہم نے پچھلا الیکشن لڑا اور جس طرح ٹکٹیں دیں ، ہم جیت نہیں سکتے ۔جہانگیر نے بتایا کہ عمرا ن خان نے مجھے کہا کہ تمہارا مطلب کیا ہے ؟،میں نے کہا کہ یہ پنجاب کا ڈیٹا ہے ، 50 فیصد سیٹیں جب ہمار ہارے تو ان میں ہمارے امیدوار دوسرے نمبر پر بھی نہیں آئے ، ہم ٹیبل پر ہی نہیں تھے ، ہمارے امیدوار تیسرے ، چوتھے اور پانچویں نمبر پر تھے ، اگر پیمانہ لگائیں تو جہاں سکینڈ آئے اور کم از کم بیس فیصد ووٹ لیے ہیں تو 66 فیصد ایسے تھے جہاں ہمیں 20 فیصد ووٹ بھی نہیں ملے تھے ۔جہانگیر ترین نے بتایا کہ میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے امیدوار غلط تھے ، ہم نے امیدوار تبدیل کرنے ہیں ، یہ پنجاب ہے یہاں سیاسی خاندان ہیں جب تک ہم سیاسی خاندانوں کے لوگ نہیں لائیں گے آپ وزیراعظم نہیں بن سکتے ۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ اس پر پارٹی میں بہت اختلاف ہوا میرے مخالف کہتے ہیں جہانگیر ترین پارٹی ٹیک اوور کرتا ہے ، یہ اپنے لوگ لے کر آیاہے ، بابا یہ میرے لوگ نہیں ہیں یہ سیاسی خاندانوں کے لوگ ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے  اس دفعہ 67سیٹیں جیتیں اس میں 80 فیصد لوگ سیاسی خاندانوں کے ہیں ، 60 فیصد ایسے لوگ ہیں جو سیاسی خاندان کے ہیں اور 2013 کے بعد انہوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے ۔انہوں نے کہا ان میں سے کافی لوگوں کو پارٹی میں ، میں لایا ہوں اور کچھ خود بھی آئے ہیں جبکہ باقی اور لوگ بھی لائے ہیں ۔جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ سوچ لیں اس وقت جو اسمبلی بیٹھی ہے ، پنجاب میں سے 60 فیصد وہ لوگ ہیں جو سیاسی خاندانوں سے ہیں اور 2013 میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ، اس طرح عمران خان وزیراعظم بنے ہیں ۔
یاد رہے کہ چینی اور آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ میں خسرو بختیار اور جہانگیر ترین کا بھی نام آیا ہے جن کی شوگر ملز نے سبسڈی حاصل کی ۔

کورونا وائرس ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں سب سے واضح نظر آنے والا مختلف پہلو، اس بیماری کی ٹیسٹنگ یا جانچ کا طریقہِ کار ہے۔
تو کون کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں اور مختلف ممالک میں یہ کتنے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں؟

کورونا وائرس کے ٹیسٹ کتنی اقسام کے ہیں؟

برطانیہ کے اکثر ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے ٹیسٹوں کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا کسی میں کووڈ 19 موجود ہے یا نہیں۔
سواب ٹیسٹ ناک یا گلے سے نمونہ لے کر کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں وائرس کے جینیاتی مواد کی نشاندہی کے لیے لیبارٹری بھیج دیا جاتا ہے۔۔ک دوسری قسم کا ٹیسٹ اینٹی باڈی ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا پہلے ہی کسی شخص کو وائرس ہوچکا ہے یا نہیں۔
اس دوسری قسم میں ایک آلے پر خون کے ایک قطرے کا استعمال کرتے ہوئے قوتِ مدافعت دیکھی جاتی ہے۔ یہ بالکل حمل کے ٹیسٹ جیسا ہے۔
برطانوی حکومت نے ساڑھے تین لاکھ اینٹی باڈی ٹیسٹ خریدے ہیں لیکن ابھی تک ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں مل سکا جسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے قابل اعتماد سمجھا جا سکے۔

یہ ٹیسٹ کس حد تک درست نتائج دیتے ہیں؟
ہسپتالوں میں زیرِ استعمال 

تشخیصی ٹیسٹ بہت قابل اعتماد ہیں۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان ٹیسٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ہر کیس کی نشاندہی ممکن ہو گی۔ اگر کوئی مریض اپنے انفیکشن کے بالکل آغاز میں ہے یا اگر اس کے جسم میں وائرس کی تعداد بہت کم ہے تو ایسے مریض کا ٹیسٹ منفی بھی آ سکتا ہے۔
اور سواب ٹیسٹ کے لیے گلے سے نمونہ لیتے ہوئے کافی تعداد میں وائرس نہیں اٹھایا جا سکا تو اس صورت میں سواب ٹیسٹ منفی آ سکتا ہے۔
ابھی تک اینٹی باڈی ٹیسٹس اتنے قابل اعتماد ثابت نہیں ہوئے۔
برطانیہ میں محکمہِ صحت کے سیکرٹری میٹ ہینکوک نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ 15 بہترین اینٹی باڈی ٹیسٹوں کا تجربہ کیا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی بہتر نہیں تھا۔
برطانیہ میں ان ٹیسٹیوں کی نگرانی کرنے والے پروفیسر جان نیوٹن نے ٹائمز اخبار کو بتایا کہ چین سے خریدے گئے ٹیسٹ ایسے مریضوں میں اینٹی باڈیز کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہے جو کورونا وائرس سے شدید بیمار تھے۔ لیکن ایسے مریض جن کی حالت زیادہ خراب نہیں تھی، ان میں ناکام رہے۔

ٹیسٹنگ کیوں ضروری ہے؟

لوگوں کی ٹیسٹنگ کرنے کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی، انفرادی طور پر ان کی تشخیص کرنا اور دوسرا یہ معلوم کرنا کہ ان میں وائرس کس حد تک پھیل چکا ہے۔
یہ معلومات محکمہ صحت اور طبی عملے کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ انتہائی نگہداشت کے کتنے یونٹس کی ضرورت پڑے گی۔
ٹیسٹنگ، معاشرتی دوری جیسے اقدامات کے متعلق فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر لوگوں کی بڑی تعداد پہلے ہی انفیکشن سے متاثر ہو چکی ہے تو ایسی صورت میں لاک ڈاؤن کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اور زیادہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صحت کے کارکنان سمیت، بہت سارے لوگ بلا وجہ خود کو الگ تھلگ کر سکتے ہیں۔

مختلف ممالک کتنے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کر رہے ہیں؟

جنوبی کوریا، جو برطانیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنے میں کامیاب رہا ہے، انھوں نے ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری کو منظور کرنے کے لیے بہت تیزی سے کام کیا۔ اس اقدام نے انھیں بہت سی کٹس ذخیرہ کرنے کے بھی قابل بنایا۔
اگرچہ جنوبی کوریا کی آبادی برطانیہ سے کم ہے لیکن ان کے پاس دگنی تعداد میں لیبارٹریاں اور برطانیہ کے مقابلے میں ہفتہ وار ٹیسٹنگ کی ڈھائی گنا زیادہ صلاحیت موجود ہے۔
جرمنی نے برطانیہ سے تین گنا زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں۔
27 مارچ تک ، جرمنی نے ایک لاکھ شہریوں میں 1096 کے ٹیسٹ کیے جبکہ یکم اپریل تک برطانیہ ہر ایک لاکھ آبادی میں سے صرف 348 کے ٹیسٹ کرنے میں کامیاب ہو سکا تھا۔
اس کے موازنے میں اٹلی میں ہر ایک لاکھ کی آبادی میں سے 895، جنوبی کوریا میں 842، امریکہ میں 348 اور جاپان میں 27 سے کیا جا سکتا ہے۔

احساس پروگرام کے 12 ہزار کیسے حاصل کرنے ہیں؟ طریقہ کار جانئے

 وفاقی حکومت کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں میں امدادی رقم کی تقسیم کا

آج (جمعرات) سے آغاز کردیا گیا ہے۔ لوگوںکو رقوم کی فراہمی کے لیے 17 ہزار مراکز قائم کیے گئے ہیں۔احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق  مستحق افراد اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کریں  تو جواب میں اہلیت کے بارے میں بتادیا جائے گا۔ اگر میسج بھیجنے والا شخص امداد کا اہل ہوا تو اسے ایس ایم ایس کے ذریعے آگاہ کردیا جائے گا اور یہ بھی بتادیا جائے گا کہ وہ کس مرکز سے رقم حاصل کرسکتا ہے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق احساس صارفین کی صحت اورتحفظ کو یقینی بنانے کیلیئے رقوم کے بائیومیٹرک ادائیگی مراکز اور وہاں قائم کاؤنٹروں کی تعداد میں خٓاطرخواہ اضافہ کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کا ہجوم نہ جمع ہو۔
احساس پروگرام کے تحت لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ مستحق خاندانوں میں امدادی رقوم تقسیم کی جائیں گی اور ایک خاندان سے ایک ہی شخص یہ رقم حاصل کرنے کا اہل ہوگا۔ حکومت نے احساس پروگرام کے حوالے سے ٹال فری نمبر بھی دیا ہے جس پر کال کرکے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔  اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کی معلومات لینا چاہتا ہے تو وہ 080026477 پر کال کرسکتا ہے۔

سعودی عرب کے 150 شہزادے کورونا میں مبتلا، شاہ سلمان اور محمد بن سلمان آئسولیٹ، شاہی خاندان کیلئے 500 بیڈز تیار

سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے کم از کم 150 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو محفوظ مقام پر آئسولیٹ کردیا گیا ہے۔عودی عرب میں کورونا وائرس کا نشانہ بننے والوں میں شاہی خاندان کے سینئر اور جونیئر افراد شامل ہیں۔
سعودی  دارالحکومت ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز آل سعود بھی کورونا کا نشانہ بنے ہیں، ان کی عمر 70 سال کے قریب ہے اور وہ اس وقت آئی سی یو میں ہیں۔عودی عرب کے شاہی خاندان کے افراد کے علاج کیلئے مختص ہسپتال میں  500 بیڈز تیار کیے جارہے ہیں  تاکہ کسی بھی ممکنہ ایمرجنسی سے نمٹا جاسکے۔  کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال کی جانب سے منگل کے روز تمام ڈاکٹرز کو ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے جس میں انہیں ملک بھر سے وی آئی پی شخصیات کے علاج کی تیاری کے حوالے سے کہا گیا ہے۔
مراسلے میں لکھا گیا ہے " ہمیں نہیں پتا کہ کتنے کیسز آنے والے ہیں لیکن ہمیں ہائی الرٹ رہنا ہوگا، عام مریضوں کو جلد از جلد منتقل کردیا جائے ، ہسپتال میں  صرف اعلیٰ شخصیات کے ایمرجنسی کیسز دیکھے جائیں گے۔مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ہسپتال کے عملے میں سے کوئی شخص کورونا سے متاثر ہوا تو اس کا علاج نسبتاً کم درجے کے ہسپتال میں کیا جائے گا تاکہ شاہی خاندان کے افراد کیلئے ہسپتال میں جگہ بچی رہے۔
سعودی عرب کےبہت سے شہزادے یورپ اور امریکہ جاتے رہتے ہیں اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ لوگ وہاں سے کورونا وائرس اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچنے کیلئے شاہ سلمان کو جدہ کے قریب ایک جزیرے پر آئسولیٹ کردیا گیا ہے جبکہ ولی عہد محمد بن سلمان کو بحیرہ احمر کے پاس ایک جزیرے پر بھیجا گیا ہے۔

جہانگیر ترین نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو اپنے خلاف سازش کی وجہ قرار دے دیا لیکن اعظم خان کون ہیں ؟ وہ باتیں جو آپ کو معلوم نہیں

وزیراعظم عمران خان نے آٹے اور چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ کو عوامی کر دیاہے جس میں جہانگیر ترین
اور خسرو بختیار کا نام آ رہاہے تاہم اس ساری صورتحال میں عمران خان کے قریبی سمجھے جانے والے جہانگیر ترین نے اپنے خلاف سازش کا ذمہ دار پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو قرار دیاہے ۔تفصیلات کے مطابق اعظم خان اس وقت وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہیں اور وہ پاکستان ایڈمنسڑیٹیو سروس گروپ کے افسر ہیں۔ ضلع مردان کے علاقے رستم میں پیدا ہونے والے اعظم خان کا تعلق ایک بڑے زمیندار گھرانے سے ہے۔انہوں نے برن ہال کالج ایبٹ آباد سے تعلیم حاصل کی اور سول سروس کے امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کے بعد متعدد اہم پوزیشنز پر تعینات رہے۔ اپنی سروس کا زیادہ تر عرصہ اعظم خان نے صوبہ خیبر پختونخوا میں گزارا جہاں وہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پولیٹکل ایجنٹ بھی رہے اور پشاور کے کمشنر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔اعظم خان پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختون خواہ میں پچھلے دور حکومت میں چیف سیکریٹری کے عہدے پر پہنچے جہاں صوبائی حکومت کے اہم اجلاسوں میں شرکت کرنے والے پارٹی چیئرمین عمران خان کی نظر انتخاب ان پر جا پڑی ۔عمران خان نے 2018 کے انتخابات میں وزیراعظم بننے کے فورا بعد کئی دوسرے سینیئر افسران کی موجودگی کے باجود اعظم خان کو اپنا پرنسپل سیکرٹری تعینات کر دیا جو پاکستان میں بیوروکریسی کا سب سے اہم عہدہ سمجھا جاتا ہے۔
دی نیوز کے سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی جانب سے اعظم خان پر تنقید کا جواز نہیں بنتا کیونکہ تمام فیصلے اصل میں وزیراعظم عمران خان کی مرضی سے ہی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ اعظم خان کے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ ڈاکٹر سلمان خان ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں جس کی وجہ سے آئی بی کی انکوائری رپورٹس ان سے شئیر ہو جاتی ہیں۔تاہم اس تاثر کے حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔انصار عباسی کے مطابق وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ بعض اوقات وفاقی وزرا بھی اس سے کم اثر رسوخ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنما اس عہدے کے حوالے سے شکی نظر آتے ہیں۔ انصار عباسی کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد بھی اسی طاقت کے باعث وزیراعظم کے داماد کیپٹن صفدر کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے۔تاہم انصار عباسی کے مطابق پرنسپل سیکرٹری اپنا کوئی فیصلہ وزیراعظم کی مرضی کے بغیر نہیں کرتا اور وہ اپنی طاقت وزیراعظم کے دفتر سے ہی اخذ کرتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی میں ابھی بھی اعظم خان کا اتنا اثر و رسوخ ہے کہ بعض حلقوں میں وہ وزیراعلی جتنے طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔وہ اپنے قریبی سرکاری افسران کا خیال رکھنے کے لیے مشہور ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اعظم خان کے ساتھ کام کرنے والے ایک سینیئر بیوروکریٹ کے مطابق اعظم خان اپنی خداداد صلاحیتوں اور دیانت داری کے باعث پاکستان کے لیے ایک اثاثہ ہیں۔سینیئر کا کہنا تھا کہ اعظم خان بیوروکریسی کو سمجھتے ہیں اور معاملات کو بہتر طریقے سے چلانے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔تاہم نیب کے مالم جبہ ریزورٹ لیز کیس میں ان کا نام بھی لیا جاتا ہے اور اس کیس میں وہ نیب کے دفتر میں پیش بھی ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا اس سکینڈل سے کوئی تعلق اس لیے نہیں بنتا کہ متنازعہ ٹھیکہ دیے جانے کے بعد ان کی متعلقہ محکمے میں تعیناتی ہوئی تھی۔

پاکستان کی وہ بڑی یونیورسٹی جس نے کورونا ٹیسٹ کے حوالے سے ابتک کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر لی

ڈاؤ  یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہاہے کورونا ایمرجنسی کے باعث ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بڑھاتے ہوئے اسے ایک ہزار روزانہ تک لے جایا جارہا ہے،کل جمعہ کے روز  سے مشین اور کٹس آنے کے بعد ہم اپنی کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت ایک ہزار روزانہ کرلیں گے جبکہ کل ہی ڈاؤ  اسپتال میں عام مریضوں کےلیے مفت ٹیلی میڈیسن کلینک کا بھی آغاز کیا جارہاہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بات کرتے ہوئےڈاؤ  یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ  فی الحال ڈاؤ  لیب اوجھا کیمپس میں تین سو کورونا ٹیسٹ روزانہ کی بنیا د پر کرنے کی صلاحیت ہے،اب تک ہمارے یہاں ہونے والے سینکڑوں ٹیسٹ کے بعد وہ کہہ سکتے ہیں مثبت آنے کی اوسط نوفیصد ہے،صوبے میں سکریننگ کا عمل تیز کیا جارہاہے ،یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ ڈاو یونیورسٹی  میں چودہ آئسو لیشن بیڈ ہیں جبکہ اس وقت ہمارے یہاں کورونا کے دس مریض زیر علا ج ہیں جن میں چار وینٹی لیٹر پر ہیں ، جہاں تک کورونا سے متاثر مریضوں کا صحت یابی کا تعلق ہے جو آیا صحت یاب ہی ہوکر کرگیا ہے اب تک ہمارے یہاں کورونا سے صرف دواموات ہوئی ہیں ان میں سے ایک کو بڑی عمر کے ساتھ ہارٹ ،بلڈپریشر شوگر وغیرہ کے مسائل بھی تھے دوسرے کے ساتھ ایسا مسائل نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ  میں بھی دنیا بھر کی طرح کورونا کے علاج کے لیے کلوکوئینن ایزی تھرومائیسین کے مرکب سے علاج ہورہاہے،اس کے مثبت نتائج آرہے ہیں لیکن سوفیصد نتائج نہیں آرہے ہیں تاہم اس علاج کے حوالے سے ہمارے یہاں ایک تحقیقی ٹیم کام کررہی ہے جو مریضوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرکے اس مرکب کے اثرات کا مکمل تجزیہ کررہی ہے، اس ریسرچ کے مکمل ہونے بعد ہی کورونا سے اس کے ذریعے علاج پر رائے دی جاسکے گی تاہم یہ دوا بھی دیگر دواؤں کی طرح ضمنی اثرات رکھتی ہے ہم ای سی جی کرکے دوا دیتے ہیں اور اس کے بعد دل کے افعال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں کیونکہ اس دوا کے دل پر براہ راست اثرات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ دوائیں جب ہم اتنے محتاط انداز میں استعمال کررہے ہیں تو اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاکہ لوگ ازخود یہ دوائیں لینا شروع کردیں، یہ انتہائی خطرناک ہے،اس سے سختی سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔پروفیسرمحمد سعید قریشی نے کہاکہ کورونا ایمرجنسی کے باعث ہماری اوپی ڈیز بند ہوگئی ہیں، جس سے عام امراض کے مریضوں کو پریشانی ہورہی ہے، اس کےلیے ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں ایک مفت آن لائن کلینک شروع کیا جارہاہے، جس میں ہمارے ماہر ڈاکٹرز صبح نوبجے سے دوبجے تک ہفتے میں چھ دن فرائض انجام دیں گے ،مفت ٹیلی میڈیسن کلینک چھ گھنٹے پیر تا ہفتہ خدمات انجام دیں گے، گائنی،میڈیسن،سرجری اور سائیکاٹری کے مریض ماہرین سے مفت مشورے لے سکیں گے اور دوا بھی تجویز کی جاسکیں گی ۔انہوں نے بتایا کہ کلینک سے فون
نمبر02138732032 پررابطہ کرکے استفادہ کیا جاسکتاہے۔

"ہر گھر بنے گا سکول" وزیرتعلیم نے سکولوں میں چھٹیوں کے دوران پڑھائی کا نیا حکومتی منصوبہ متعارف کرادیا

 ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند ہیں اور بچوں کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے پنجاب حکومت نے ایک انقلابی منصوبہ متعارف کروادیا ہے۔
پنجاب حکومت نے ایک انقلابی منصوبہ متعارف کروادیا ہے۔پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا ہے کہ "کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا صورتحال کے باعث ہمارے بچے گھروں تک محدود ہیں۔ اس دوران ہر گھر تک تعلیم کی رسائی کیلئے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے کیبل چینل 'تعلیم گھر' کاآغاز کیا ہے تاکہ بچوں کا تعلیمی عمل بحال رہے"۔ انہوں نے ہر گھر بنے گا سکول کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اس کے اشتہار بھی اپنے اکاونٹ کے ذریعے پوسٹ کیا۔ورونا وائرس کی وجہ سے پیدا صورتحال کے باعث ہمارے بچے گھروں تک محدود ہیں.
اس دوران ہر گھر تک تعلیم کی رسائی کے لیے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے کیبل چینل 'تعلیم گھر' کا آغاز کیا ہے تاکہ بچوں کا تعلیمی عمل بحال رہے

چین میں کورونا وائرس سب سے پہلے کس کو ہوا تھا؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف سامنے آگیا

چین میں ماہرین اس شخص کی تلاش کے لیے تحقیق کر رہے ہیں جس کو سب سے پہلے کورونا وائرس لاحق ہوا تھا۔ اب اس تحقیق میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ماہرین نے اس مریض کا پتا چلا لیا ہے جس میں سب سے پہلے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ لیک ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اس خاتون کا نام ’وی‘ (Wei)ہے جو ووہان کی گوشت کی مارکیٹ میں زندہ جھینگے فروخت کرتی تھی۔رپورٹ کے مطابق یہ خاتون مارکیٹ کے قریب ہی رہتی تھی۔ 11دسمبر کو اسے بخار اور فلو ہوا تھا اور وہ ایک چھوٹے سے کلینک پر گئی اور دوا لی۔ تاہم 5دن بعد جب اس کا مرض شدید ہوا تو وہ ایک بڑے ہسپتال گئی۔ وہاں اس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سب سے پہلے کس شخص کو لاحق ہوا، یہ تاحال ایک راز ہے جس تک پہنچنے کی ماہرین کوشش کر رہے ہیں۔ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے
کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس 17نومبر کو اس پہلے انسان
کو لاحق ہوا ہو گا جس کی انہیں تلاش ہے۔