ایک ایسے وقت میں جب دنیا لاک ڈاون میں نرمی یا اسے ختم کرنے کا سوچ رہی ہے
عالمی ادارہ صحت نے اپنے نئے خدشات کااظہارکردیاہے۔ڈبلیو ایچ او نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کووڈ 19طویل عرصے تک دنیا میں برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ کئی ممالک میں یہ ابھی تک پھیل رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نےجنیوا میں بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم نے ایمرجنسی کا اعلان صحیح وقت پر کر دیا تھا جس کا جواب دینے کے لئے ملکوں کے پاس وقت تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک میں کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں جبکہ کئی ممالک میں یہ اب بھی پھیل رہا ہے۔ گھروں پر رہنے اور سماجی فاصلوں کے احکامات پر عملدرآمد کی وجہ سے بیماری کا پھیلنا کم ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ وائرس بہت ہی خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کورونا وائرس لمبے عرصے تک رہنے کا خدشہ ہے جبکہ مختلف ممالک میں اب بھی عالمی وبا پھیل رہی ہے۔ دنیا میں اس جان لیوا بیماری میں اضافے کا رجحان تشویشناک ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنے نئے خدشات کااظہارکردیاہے۔ڈبلیو ایچ او نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کووڈ 19طویل عرصے تک دنیا میں برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ کئی ممالک میں یہ ابھی تک پھیل رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نےجنیوا میں بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم نے ایمرجنسی کا اعلان صحیح وقت پر کر دیا تھا جس کا جواب دینے کے لئے ملکوں کے پاس وقت تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک میں کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں جبکہ کئی ممالک میں یہ اب بھی پھیل رہا ہے۔ گھروں پر رہنے اور سماجی فاصلوں کے احکامات پر عملدرآمد کی وجہ سے بیماری کا پھیلنا کم ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ وائرس بہت ہی خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کورونا وائرس لمبے عرصے تک رہنے کا خدشہ ہے جبکہ مختلف ممالک میں اب بھی عالمی وبا پھیل رہی ہے۔ دنیا میں اس جان لیوا بیماری میں اضافے کا رجحان تشویشناک ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی یا اسے ختم کرنا وائرس کے لیے دوبارہ سر اٹھانے جیسا ہو گا تاہم کچھ ممالک میں کورونا کیسز کم ہونا شروع ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ فنڈنگ روکنے سے ڈبلیو ایچ او کو کورونا سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ڈبلیو ایچ او چیف نے کہا انہیں امید ہے، امریکہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں کورونا مریضوں کی تعداد چھبیس لاکھ سینتیس ہزار سے بڑھ چکی ہے اور ایک لاکھ چوراسی ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں جب کہ سات لاکھ سترہ ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہوئے۔
یورپ پر کورونا کے وار بدستور جاری ہیں اور فرانس میں مزید پانچ سو چالیس افراد کورونا کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

No comments:
Post a Comment