کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد معمولی سے درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کی ایک مخصوص تعداد ایسی ہے جن میں بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے اور مریض ہلاک ہو جاتا ہے

کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد معمولی سے درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کی ایک مخصوص تعداد ایسی ہے جن میں بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے اور مریض ہلاک ہو جاتا ہے۔
امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔
اسے خون کا روبصحت سیال یا کونویلیسینٹ پلازمہ کہا جاتا ہے۔ کورونا سے ہونے والی معتدی بیماری کووِڈ۔19 کی صورت میں معروف امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام ایف ڈے اے یعنی دی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے رواں ماہ کی 24 تاریخ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں ڈاکٹروں کو کورونا کے شدید علیل یا زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے مریضوں کے لیے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کے استعمال کی اجازت دی۔ تاہم ہر انفرادی مریض میں استعمال سے قبل پیشگی اجازت لینا ضروری قرار دیا ہے۔
ایف ڈی اے کے مطابق یہ ایک تحقیقاتی طریقہ علاج ہے اور اس تک رسائی کی مشروط اجازت امریکہ میں تیزی سے بڑھتے کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی طبی صورتحال کے پیشِ نظر دی گئی ہے۔
پاکستان میں بھی طبی ماہرین اس طریقہ علاج کے استعمال کی تجویز حکومت کو دے چکے ہیں۔ ان میں کراچی میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیذیذز کے ڈین اور امراض خون کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی بھی شامل ہیں جو حال ہی میں اس تجویز کو سامنے لائے تھے۔
ان کا استدلال ہے کہ چین میں ڈاکٹروں نے کورونا کے مریضوں پر اس طریقہ کار کا استعمال کیا ہے اور اس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جنھیں انھوں نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کے لیے شائع بھی کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ 'اس طریقہ علاج اور اس کے استعمال کے حوالے سے ایک نمونہ حکومت کے پاس جمع کروایا جا چکا ہے، انھوں نے دیکھ لیا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ وہ یہ کریں گے

No comments:

Post a Comment